خوراک کے لیے، انڈمان قبائلی خواتین کا عریاں رقص

تصویر کے کاپی رائٹ MSF juba
Image caption انڈمان جزیرے کے باسی دنیا کے شاذ و نادر قبائیلیوں میں سے ہیں

بھارت میں حکام نے انڈمان اور نکوبار جزیروں کی انتظامیہ سے اس ویڈیو کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے جس میں نیم برہنہ قبائلی عورتوں کو سیاحوں کے سامنے ناچتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ان عورتوں کا تعلق جاڑوا قبیلے سے ہے جس کا شمار دنیا کے قدیم ترین قبائل میں کیا جاتا ہے۔ اس قبیلے کےاب صرف تقریباً چار سو لوگ زندہ بچے ہیں جو اب بھی گھنے جنگلات میں اپنی قدیم روایات کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔

اس ویڈیو میں قبائلی عورتوں کو کھانے پینے کے سامان کے بدلے ناچنے کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ یہ خبر پہلے برطانوی اخبار آبزرور میں شائع ہوئی تھی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ انڈمان جزیرے میں پولیس کی ملی بھگت سے قبائلیوں کا استحصال کیاجا رہا ہے لیکن مقامی انتظامیہ نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

خطے کے پولیس سربراہ ایس بی دیوئل کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو دس سال پرانی ہے۔

لیکن قبائلی امور کے وزیر کے پی سنگھ دیو نے کہا کہ ’ اگر ایسا ہو رہا ہے تو یہ انتہائی شرمناک بات ہے، قصوروار افراد کو انتہائی سخت سزا دی جانی چاہیے۔۔۔‘

آبزرور نے یہ ویڈیو، جو اس کے مطابق ایک سیاح نے بنائی ہے، اپنی ویب سائٹ پر لگائی ہے۔ اس کے بعد سے بھارتی ٹی وی چینلوں پر بھی اسے بار بار دکھایا جا رہا ہے۔

ویڈیو میں ایک شخص کو ہندی میں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’ناچو‘ میں نے تمہیں کھانا دیا ہے، اسے کھا لینا۔۔۔ پیچھے اور گاڑیاں آرہی ہیں، ان کے پاس اور کھانا ہے۔۔۔‘

قبائلیوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والے ادارے سرواؤل انٹرنیشنل کا دعوی ہے کہ اس نے سن دو ہزار دس میں اس جانب توجہ مبذول کرائی تھی کہ سیاح ایک غیر قانونی سڑک استعمال کرکے جاڑوا کے جنگلات میں داخل ہوتے ہیں اور ٹور کمپنیوں کےملازمین اور ٹیکسی ڈرائیور قبائلی عورتوں کو بسکٹ اور مٹھائی کا لالچ دیکر نچواتے ہیں۔

جاڑوا قبیلے کے لوگ انیس سو اٹھانوے سے باہر کی دنیا سے رابطے میں آئے تھے اور تب سے ان کے تحفظ کے لیے حکومت کی جانب سے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں۔

لیکن اخبار کا الزام ہے کہ سیاحوں کو ایک پولیس اہلکار جنگل میں لیکر گیا تھا اور اس کام کے لیے اس نے تقریباً پندرہ ہزار روپے کی رشوت لی تھی۔

آبزرور کے مضمون میں ایک سیاح نے ان جنگلات میں اپنے سفر کو ’سفاری’ سے تعبیر کیا ہے۔۔۔’ہم گھنے جنگلات سے گزر رہے تھے اور ہم جنگلی جانور دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے اور خاص طور پر جاڑوا قبیلے کے لوگوں کو۔‘

سرواؤل انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ جو سڑک سیاح استعمال کر رہے تھے اس پر سپریم کورٹ نے دو ہزار دو میں پابندی لگا دی تھی۔ ادارے کے ڈائریکٹر سٹیفن کوری کا کہنا ہے کہ ’قبائلی لوگوں کے متعلق کچھ لوگوں کا رویہ ابھی تک نہیں بدلا ہے، جاڑوا کے لوگ سرکس میں کام کرنے والے خچر نہیں ہیں جو کسی کے بھی اشارے پر ناچیں۔‘

مسٹر دیوئل کا کہنا ہے کہ جس کسی نے بھی یہ ویڈیو بنائی ہے اس نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے جس کے لیے اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

آبزرور کے مطابق یہ ویڈیو گیتھی چیمبرلین نامی ایک ویڈیو صحافی نے بنائی ہے جن کا دعوی ہے کہ یہ پرانی نہیں ہے۔

اسی بارے میں