’جوہری ہتھیار صرف جنگ روکنے کے لیے ہیں‘

وی کے سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنرل سنگھ چاہتے ہیں کہ ان کی تاریخ پیدائش دس مئی انیس سو اکیاون تسلیم کی جانی چاہیے

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیار جنگ روکنے کے لیے ہیں اور استعمال کے لیے نہیں ہوتے ہیں۔

اتوار کو آرمی ڈے کے موقع پر ایک سوال کے جواب میں فوج کے سربراہ نے کہا ’ہمیں اس پر بہت واضح رہنا چاہیے کہ جوہری ہتھیار جنگ لڑنے کے لیے نہیں ہیں، دفاعی حکومت علی کے اعتبار سے وہ ضرور اہم ہیں۔ بس میں اتنا ہی کہوں گا۔‘

جنرل وی کے سنگھ نے کہا کوئی یہ نہ سمجھے کہ جوہری ہتھیار اب جنگ میں استعمال کیے جائیں گے۔

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ پاکستان اور چین بڑی تیزي سے اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کر رہے ہیں اور اس پر بھارت کی کیا حکمت علی ہونی چاہیے؟

تو انہوں نے جواب میں کہا’مجھے اور میری فوج کو اس بات کی کوئي پرواہ نہیں ہے کہ کس کے پاس کتنے جوہری ہتھیار ہیں۔ ہم نے اپنے ہدف مقرر کر رکھے ہیں اور اسی کے مطابق آگے بڑھتے رہیں گے۔‘

بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں نشر یا شائع ہوتی رہتی ہیں کہ’پاکستان کے پاس نوے سے ایک سو دس تک جوہری ہتھیار ہیں جبکہ بھارت کے پاس اسّی سے سو تک ہیں۔‘

جوہری ہتھیاروں سے متعلق بھارت کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انہیں پہلے استعمال نہیں کریگا جبکہ پاکستان کا مبینہ طور پر یہ موقف ہے کہ اگر بھارت نے اس پر حملہ کیا تو اسے کے حملوں سے نمٹنے کے لیے اگر ضرورت پڑی تو جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔

بھارت کا موقف ہے کہ اگر اس کی فوج پر بائیولوجیکل ہتھیاروں سے حملہ ہوتا ہے تو اس صورت میں وہ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔

دسمبر دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ جنگ کے لیے اپنی مغربی سرحد پر فوج جمع کی تھی جس میں تقریباً ایک ماہ کا وقت لگا تھا۔

پوری طرح سے ناکام رہنے والا یہ عمل’ آپریشن پراکرم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سرحد پر جب تک فوج ایکشن کے لیے پوری طرح جمع ہوتی تب تک عالمی دباؤ کے سبب معاملہ رفع دفع ہوگيا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ بھارت کے مقابلے پاکستان نے اپنی فوجی تیزی سے سرحد پر تعینات کر دی تھی۔

اس کے متعلق بات کرتے بھارتی فوج کے سربراہ نے کہا’ آپریشن پراکرم کے دور سے اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔ اس وقت اگر کچھ کرنے میں ہمیں پندرہ دن لگے تھے تو اب اسے ہم سات دن میں کر سکتے ہیں، اور دو برس بعد ممکن ہے کہ ہم اسے صرف تین دن میں ہی کر لیں۔‘

آرمی ڈے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت میں جرنل وی کے سنگھ نے کہا فوج’ پرو ایکٹیو سٹریٹیجی‘ پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ اس آپریشن کا مقصد مختصر وقت میں سرجیکل سٹرائیک کرنا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق’ پروایکٹیو سٹریٹیجی‘ دہشتگردانہ حملوں کی صورت میں پاکستان کے اندر محدود حملہ کرنا ہے جس کا مقصد پوری طرح سے جنگ چھیڑنا نہیں اور نا ہی اس کی سر زمین پر قبضہ کرنا ہے۔

اسی بارے میں