بھارت میں چین جیسی آمریت نہیں ہے،گوگل

گوگل تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عدالت کی جانب سے فیس بک، مائکروسافٹ، گوگل، یاہو اور یوٹیوب کو مقدمہ کا نوٹس جاری کیا گیا ہے

انٹرنیٹ کے معروف سرچ انجن گوگل انڈیا نے دلی ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ چونکہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اس لیے ویب سائٹ پر ایسی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی کہ اسے بند کر دیا جائے۔

اس سے قبل دلی ہائی کورٹ نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک اور سرچ انجن گوگل کو خبردار کیا تھا کہ اگر یہ ویب سائٹس قابل اعتراض مواد ہٹانے کا انتظام نہیں کرتیں، تو چین کی طرح بھارت میں بھی ان پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

گوگل اور فیس بک ان بیس ویب سائٹس ميں سے ہیں جنہیں بھارت میں قابل اعتراض مواد شائع کرنے پر مجرمانہ مقدمات کا سامنا ہے۔

گوگل کی جانب سے جواب دیتے ہوئے کمپنی کے وکیل این کے کول نے عدالت سے کہا بھارت جمہوری ملک ہے اور چین کی طرح یہاں آمریت کا راج نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا ’یہ خیالات و اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ایک آئینی مسئلہ ہے اور اسے دبانا غیر ممکن ہے کیونکہ اظہار رائے کی آزادی بھارت کو چین جیسی آمریت سے الگ کرتی ہے۔‘

دلی ہائي کورٹ کے جج جسٹس سریش كیت نے کہا تھا کہ اگر قابل اعتراض مواد نہ ہٹایا گیا تو چین کی طرح بھارت میں بھی ایسی تمام ویب سائٹس کو بلاک کیا جا سکتا ہے۔

مسٹر کول نے عدالت سے کہا کہ انٹرینٹ ایک ایسا گلوبل نظام ہے جسے کروڑوں افراد، بہت سی کمپنیاں اور حکومتیں بھی استعمال کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام اگر اپنی مرضی سے کوئی قابل اعتراض مواد دیکھتے ہیں تو اس کے لیے کمپنی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور چونکہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ گوگل استعمال کرتے ہیں اس لیے سب پر نگرانی بھی نہیں رکھی جا سکتی ہے۔

انہوں نے عدالت سے کہا گوگل کے خلاف جو مقدمہ شروع کیا گیا ہے اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ گوگل انڈیا کے خلاف کوئي مجرمانہ کیس نہیں چلایا جا سکتا ہے۔

ایک طرف جہاں عدالت میں اس معاملے پر مقدمہ چل رہا ہے وہیں میڈیا میں بھی بحث تیز ہوگئی ہے کہ آخر اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ دلی کی ہی ایک عدالت نے فیس بک، گوگل، یاہو اور مائیکروسافٹ سمیت بائیس سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کو قابل اعتراض مواد ہٹانے کے لیے چھ فروری تک کی مہلت دی تھی۔

اسی بارے میں