فوجی سربراہ کا مقدمہ:’غلط روایت قائم‘

وی کے سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وی کے سنگھ پہلے فوجی سربراہ ہیں جنہوں نے حکومت کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے

بھارت کے وزیر مملکت برائے دفاع پلم راجو کا کہنا ہے کہ فوجی سربراہ کا اپنی عمر کا تنازعہ عدالت میں لے جانا قابل افسوس ہے اور اس سے ایک غلط روایت قائم ہوئی ہے۔

بھارت کی بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے پیر کے روز اپنی عمر کے تنازعے سے متعلق حکومت کی خلاف سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا۔

اس سے متعلق صحافیوں کے سوالات کے جواب میں مسٹر راجو نے کہا ’یہ قابل افسوس بات ہے اور اس سے وزارت دفاع اور آرمڈ فورسز دونوں ہی کے لیے غیر صحت مند مثال قائم ہوئی ہے۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا حکومت اس تنازعہ پر شرمندہ ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ عوامی بحث کا نہیں ہے اور اس سے ایک غلط روایت قائم ہوئی ہے۔

حکومت نے اس تنازعہ پر پہلی بار کھل کر کوئی بیان دیا ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ جنرل سنگھ کے فیصلے سے کافی ناراض ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ ملک کے ایسے پہلے فوجی سربراہ ہیں جنہوں نے حکومت کے موقف کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

بھارتی حکومت نے بھی منگل کے روز سپریم کورٹ میں فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی عمر کے تنازعہ سے متعلق ایک درخواست داخل کی تھی اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس معاملے پر حکومتی موقف سنے بغیر فیصلہ نہ کیا جائے۔

حکومت نے پرانے ریکارڈ کی بنیاد پر جنرل سنگھ کی عمر کا سال 1950 طے کیا ہے جبکہ جنرل سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کی پیدائش 1951 میں ہوئی تھی۔

بھارت کی فوج کے ریکارڈ میں بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی پیدائش کی دو تاریخیں ملی ہیں۔ ایک جگہ ان کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1950 ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ دوسری جگہ ان کی پیدائش کی تاریخ ایک سال کم یعنی 10 مئی 1951 ریکارڈ کی گئی ہے۔

جنرل سنگھ کا کہنا ہے کہ سکول کے زمانے میں ان کا فارم ایک ٹیچر نے بھرا تھا اور انہوں نے ان کی پیدائش کی تاریخ میں غلطی کر دی تھی۔ بعد میں ان کے والد نے میٹریکویلیشن کا فارم جمع کر کے پیدائش کی تاریخ کی تصحیح کر دی تھی۔ اطلاع کے مطابق جب یہ معاملہ ایک بار اٹھا تو حکومت نے ان کی تاریخ پیدائش 1951 تسلیم کر لی تھی۔

اس دوران اس موضوع پر بحث چھڑی ہوئی ہے اور کئی سابق فوجی افسران نے جنرل وی کے سنگھ قدم پر نکتہ چینی کی ہے۔ لیکن بعض نے ان کی حمایت بھی کی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق عام طور پر عدالت ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی ہے اور کئی بار معاملہ فوجی ٹرائبینول کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

اس طرح کی بھی قیاس آرئیاں ہورہی ہیں کہ کیا حکومت جنرل وی کے سنگھ کو برخواست کریگی، ان سےاستعفے کا مطالبہ کریگی یا پھر طویل قانونی لڑائی عدالت میں لڑی جائیگي۔

اس دوران وزیر دفاع اے کے اینٹنی نے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی ہے اور اس صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں سے جنرل سنگھ کی عمر کے تنازعے کے بارے میں طرح طرح کی خبریں میڈیا میں آتی رہی ہیں۔ جنرل سنگھ نے وزارت دفاع سے درخواست کی تھی کر وہ باضابطہ طور پر ان کی عمر میں تصحیح کر لے لیکن وزارت دفاع نے 30 دسمبر کو ان کی درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ وہ 1950 والی تاریخ کو صحیح تصور کرتی ہے۔

اگر حکومت ان کی 1951 والی تاریخ تسلیم کر لیتی تو ان کی مدت ملازمت میں ایک برس کا اضافہ ہو جاتا ہے تو وہ 2012 کے بجائے مئی 2013 میں ریٹائر ہوں گے۔

جنرل وی کے سنگھ کی عمر کا تنازعہ ایک عرصے سے میڈیا میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ عدالت جلد ہی اس معاملے کی سماعت شروع کرے گی۔ فوج اور حکومت دونوں ہی کی جانب سے ابھی تک اس سلے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں