سرحدی تنازعات سے بچنے کے لیے معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میکنیزم پر اعلی قیادت کے متفقہ فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی بھی ذمہ داری ہوگي

بھارت اور چین نے اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت سرحد پر کسی بھی طرح کے ناخوشگوار حالات نہ پیدا ہونے دینے کے لیے ایک ’میکینزم‘ کے قیام کا معاہدہ کیا ہے۔

دونوں ملکوں نے سرحدی حدود کے تنازع پر دلی میں دو روزہ مذاکرات کے بعد اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان اچھے رابطوں اور تعاون سے دنیا میں’عظیم تبدیلی‘ آئےگي۔

اس معاہدے کے تحت ’دی ورکنگ میکینزم آف کنسلٹیشن اینڈ کوآپریشن آن انڈیا چائنا بارڈر افیئرز‘ کے نام سے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائیگی جس کی سربراہی دونوں ملکوں کے سیکرٹری سطح کے افسران کریں گے۔

دلی میں بھارت کے خارجہ سیکرٹری رنجن متھائی نے صحافیوں سے بات چيت میں کہا ’میکنیزم اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اگر سرحد پر کچھ بھی ہوتا ہے تو فوری طور پر متعلقہ سینئر حکام کو آگاہ کیا جائے تاکہ ہم سرحد پر امن برقرار رکھ سکیں‘۔

رنجن متھائي کا کہنا تھا کہ اس میکینزم پر اعلٰی قیادت کے متفقہ فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی بھی ذمہ داری ہوگي لیکن اسے فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔

سرحدی تنازعات سے متعلق نئی دلی میں دو روزہ بات چیت دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں کے درمیان ہوئی ہے۔

بھارت کی طرف سے مذاکراتی ٹیم کی قیادت سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن نے کی جبکہ ریاستی کاؤنسلر دائی بنگو نے چین کی نمائندگي کی۔

دائی بنگو نے بعد میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے بھی ملاقات کی جہاں منموہن سنگھ نے کہا کہ بھارت چین کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ دوروزہ بات چيت مثبت رہی ہے اور بھارت چين کے ساتھ اپنے تمام سرحدی تنازعات جائز اور ایسے طریقوں سے حل کا خوہاں ہے کہ جس پر دونوں راضی ہوسکیں۔

بھارت اور چین ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع سرحد کے متعدد علاقوں پر اپنا حق جتاتے ہیں اور اسی سلسلے میں دونوں کے مابین سنہ انیس سو باسٹھ میں ایک جنگ بھی ہو چکی ہے۔

چین نے سنہ دو ہزار نو میں اس وقت اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا جب بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ انتخابی مہم کے دوران اروناچل پردیش کے علاقے میں گئے تھے۔

اس کے علاوہ نومبر دو ہزار گیارہ میں بھارت میں چین کے سفیر نے ایک ایسے نقشے کی اشاعت پر ناراضگی ظاہر کی تھی جس میں چینی سرحد کے اندر واقع علاقوں کو بھارتی حدود میں دکھایا گیا تھا۔

سرحد کے تنازع کو حل کرنے کے لیے دونوں ممالک میں مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک کوئي خاص پیش رفت نہیں ہوئي ہے۔

اسی بارے میں