بھارتی فوجیوں کا تشدد، ویڈیو منظرِعام پر

Image caption بی ایس ایف پر ٹارچر کے الزامات پہلے بھی لگتے رہے ہیں

بھارت میں ایک ویڈیو سامنے آئي ہے جس میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز ( بی ایس ایف) کے اہلکار ایک نوجوان پر تشدد کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔

اس ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گيا ہے کہ بی ایس ایف کے اہلکار ایک شخص کو پکڑ کر لاتے ہیں، اس کے کپڑے اتارتے ہیں اور اس کے ہاتھ پیر باندھ دیے جاتے ہیں۔

اس کے بعد فوجی لاٹھیوں سے اسے باری باری مارتے ہیں اور وہ شخص ان سے اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا ہوتا ہے۔

بی بی سی کو موصول ہوئی ویڈیو گیارہ منٹ باون سیکنڈ کی ہے اور بظاہر اسے موبائل فون سے شوٹ کیا گيا ہے۔

یہ واقعہ بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں بنگلہ دیش کی سرحد کے پاس رانی نگر علاقے کا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس شخص کا تعلق پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ متاثرہ شخص ہلاک ہوگيا یا پھر زندہ ہے۔ بعض اطلاعات ہیں کہ ویڈیو میں دکھایا گیا متاثرہ شخص سلیم شیخ کا تعلق بنگلہ دیش میں نواب گنج سے ہے اور تشدد کے بعد ان کی لاش کو بنگلہ دیش کے علاقے میں پھینک دیا گیا تھا۔

کہا جارہا ہے کہ متاثرہ شخص سرحد پر غیر قانونی مویشیوں کی تجارت میں ملوث تھا اور فوجی اہلکار گائے کی سمگلنگ سے ناراض تھے۔

کئی بھارتی ٹیلیویژن چینلز نے بھی اس ویڈیو کر نشر کیا اور بھارتی فوجیوں کے ٹارچر کے اس عمل پر سخت ناراضی ظاہر کی گئي۔

بارڈر سکیورٹی فورسز کے حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تفتیش کے احکامات دیے گئے ہیں اور مبینہ اہلکاروں کو معطل کر دیا گيا ہے۔

بی ایس ایف کے سینئیر افسر روی پونوتھ نے بی بی سی کو بتایا ’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بہت ہی گھناؤنی حرکت ہے۔ واضح طور پر اس میں آٹھ فوجی ملوث ہیں اور یہ نو دسمبر کا واقعہ ہے۔‘

کولکتہ میں ایک غیر سرکاری تنظیم معصوم کا کہنا ہے کہ اسے اس بات کی اطلاع تھی کہ بی ایس ایف نے تین نوجوان افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں سے دو کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا۔

معصوم تنظیم کی سیکرٹری کیرتی رائے نے کہا ’گرفتاری کے بعد ایک بنگلہ دیشی شہری کو بے رحمی سے مارا گیا ہے۔‘

بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر مویشیوں کی سمگلنگ عام ہے۔ لیکن سرحد پر نظر رکھنے والے انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ سرحد پر لوگوں کی گرفتاریاں اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک بھی عام ہے۔

اطلاعات ہیں کہ ایسے بہت سے واقعات میں متعدد افراد کی جانیں بھی جا چکی لیکن سرحد پر جاری ایسی بیشتر کارروائیاں صیغہ راز میں رہتی ہیں۔

اسی بارے میں