’جان کو خطرہ‘، جے پور کا دورہ منسوخ

سلمان رشدی تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption سلمان رشدی کی کتاب ’سٹانک ورسز‘ ایک طویل عرصے سے متنازع ہے

عالمی شہرت یافتہ برطانوی ادیب سلمان رشدی نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے وہ جے پور ادبی میلے میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔

جے پور میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار امریش دویدی کا کہنا ہے کہ سلمان رشدی ادبی میلے کےمنتظمین کے بھیجے گئے ایک ای میل میں بھی لکھا ہے کہ ’مجھے نجی اور سرکاری ذرائع سے خبر ملی ہے کہ ممبئی کے بعض مسلح گروپ میرے قتل کے نیت سے نکلے ہوئے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’حالانکہ مجھے اس خبر کے صحیح ہونے پر شک ہے ۔ لیکن اگر میں ان حالات میں ادبی میلے میں جاتا ہوں تو یہ میرے خاندان ، میلے میں شرکت کرنے والے لوگ اور ادیبوں کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا‘۔

ای میل میں انہوں آگے لکھا ہے کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ادبی میلے کے پہلے سے طے پروگرام میں تبدیلی کرنی پڑی ہے۔

ادبی میلے کے منظمین برطانوی مصنف ولیم ڈیرلمپل اور نمیتا گوکھلے نے کہا کہ میلے میں سننے اور دیکھنے کے لیے اور بہت کچھ ہے اس لیے ساری توجہ سلمان رشدی کی آمد پر مرکوز نہ کی جائے۔

ریاست راجستھان کے پرنسپل داخلہ سیکرٹری جے سندھو نےبی بی سی کو بتایا ’ہم نے سلمان رشدی کو سکیورٹی فراہم کرانے کے سارے انتظامات کیے تھے۔ لیکن اب وہ نہیں آرہے ہیں تو اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہماری طرف سے تیاری پوری تھی‘۔

سلمان رشدی کی آمد کے خلاف بعض مذہبی مسلم تنظیمیں احتجاج کر رہی تھیں اور ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت سلمان رشدی کو بھارت نہ آنے دے۔

جے پور ادبی میلے کی ویب سائٹ پر دیے گئے پروگرام کے مطابق سلمان رشدی بیس اور اکیس جنوری کو خطاب کرنے والے تھے لیکن ویب سائٹ پر نیا شیڈو ل جاری کیا گیا ہے جس میں سلمان رشدی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

اس سے قبل راجستھان کے وزیرِ اعلی اشوک گہلوت کا کہنا ہے کہ رشدی کی آمد سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا تھا۔ انھوں نے کہا ’ کئی مسلم تنطیمیں ان کی متوقع آمد کے بارے میں ہم سے پوچھ رہی ہیں اور انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر سلمان رشدی جے پور ادبی میلے میں شریک ہوتے ہیں تو اس کے خلاف کچھ مسلمانوں کی طرف سے ردِ عمل ہو سکتا ہے۔ ہمیں اس صورتِحال پر تشویش ہے‘۔

چند ہفتے قبل جب یہ اعلان ہوا تھا کہ سلمان رشدی جے پور ادبی میلے میں شرکت کریں گے تو اس وقت اتر پردیش کے ایک وہابی مدرسے دارالعلوم دیوبند نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ سلمان رشدی کو ملک میں نہ آنے دیا جائے۔

سلمان رشدی بھارت نژاد برطانوی شہری ہیں اور کچھ عرصے سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کی ایک کتاب ’سیٹانک ورسز‘ کے پس منظر میں ایران کے مرحوم مذہبی رہنماء آیت اللہ خمینی نے ان کے خلاف 1989 میں موت کا فتویٰ دیا تھا چنانچہ دارالعلوم دیوبند بھی اس فتوے کا حامی رہا ہے۔

اسی بارے میں