کشمیر: برفانی تودہ میں سات فوجی دب گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشمیر میں اس بار زبردست برفباری ہوئی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے شمال میں لائن آف کنٹرول کے قریب پانچ فوجی اور دو نیم فوجی اہلکار منگل کی صبح برفانی تودے کے نیچے دب گئے ہیں۔

فوجی ترجمان کرنل گریوال نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پچھلے چار گھنٹوں کی امدادی کاروائی کے بعد سرحدی حفاظتی فورس یا بی ایس ایف کے ایک افسر کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پانچ فوجی اور ایک بی ایس ایف جوان ابھی تک لاپتہ ہیں۔

کرنل گریوال نے تفصیلات دیتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ منگل کی صبح سرینگر سے شمال کی جانب ایک سو چالیس کلومیٹر دوُر ضلع کپوارہ میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی عبوری سرحد کے قریب پیش آیا ہے۔

فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ فرکیاں گلی کے پاس گوجرڈوری اور کولان فوجی سیکڑوں کے بیچ پیدل راستے سے برف ہٹانے کے لئے منگل کی صبح فوج کے پانچ جوان تعینات کئے گئے جبکہ بی ایس ایف کا ایک افسر اپنے محافظ سمیت بھی وہاں کام کا جائزہ لے رہا تھا۔

فوج کو ملی اطلاع کے مطابق منگل کی صبح فرکیاں گلی کے قریب ایک برفانی طوفان آیا اور ایک بھاری برفانی تودے نے برف ہٹانے کی ٹیم کو اپنی زد میں لے لیا۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ بچاؤ کاروائی کے لیے ائیرفورس سے بھی تعاون طلب کیا گیا ہے اور گلمرگ میں قائم ہائی آلٹی چوڑ وار فئیر سکول سے خصوصی دستہ کپوارہ کی جانب چل پڑا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پچھلے سولہ برس میں پہلی بار کشمیر میں بھاری برفباری ہوئی ہے اور درجہ حراست صفر بیس ڈگری تک گر گیا ہے۔

کشمیر کے شمال میں تقریباً سبھی پہاڑی علاقے پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے ساتھ ملتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس عبوری سرحد کی نگرانی کے لیے لاکھوں بھارتی فوجی تعینات ہیں جنہیں گرما میں مسلح دراندازی اور جاڑے میں سخت سردی اور برفانی طوفان کا سامنا رہتا ہے۔

اسی بارے میں