راج ٹھاکرے شمالی بھارتیوں پر پھر برسے

راج ٹھاکرے
Image caption راج ٹھاکرے کے کارکنان کئی بار ممبئی میں شمالی بھارتیوں پر حملہ کر چکے ہیں

بھارت کی ریاست مہاراشٹر کی علاقائی جماعت نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ ممبئی میں شمالی بھارت کے لوگوں کی تعداد بڑھنے سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔

راج ٹھاکرے اور شیوسینا ممبئی میں شمالی ہند کے لوگوں کے بسنے پر پہلے ہی سے نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔

ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس تنقید کے لیے راج ٹھاکرے پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ شدت پسندی کو کسی ایک علاقے سے جوڑنا بالکل درست نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ راج ٹھاکرے ممبئی میں بسنے والے شمالی بھارت کے لوگوں پر حملہ کرنے کا کوئي موقع چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں۔

ممبئی میں صحافیوں سے بات چیت میں راج ٹھاکرے نے کہا تھا ’میں بہت پہلے سے کہہ رہا ہوں کہ شمالی ہند سے ممبئی میں آکر بسنے والوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تیرہ جولائی کے دھماکے کے سلسلے میں بہار کے بعض مشتبہ افراد گرفتار کیےگئے ہیں اور اس سے میرے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس حملے کے تار بہار سے جڑے ہوئے ہیں اور کیا اس بات پر بھی کوئی توجہ دے گا۔‘

راج ٹھاکے کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پتہ نہیں کیوں ان کے بیانات پر ہنگامہ برپا کیا جاتا ہے۔

مہاراشٹر کی پولیس نے ممبئی میں گزشتہ برس جولائي میں ہوئے دھماکے سے متعلق ریاست بہار کے بعض مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے اور راج ٹھاکرے اسی پر تبصرہ کر رہے تھے۔

راج ٹھاکرے کی جماعت نو نرمان سینا اور ان کے چچا بال ٹھاکرے کی جماعت شیو سینا مہاراشٹر میں شمالی ہند کے لوگوں کے بسنے پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔

کئی بار ان جماعتوں کے کارکنان ممبئی میں شمالی ہند کے کام کرنے والوں پر حملے بھی کر چکے ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں ممبئی کی فلمی صنعت میں پاکستانی فنکاروں کے کام کرنے کے بھی خلاف رہی ہیں۔

راج ٹھاکرے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے مداح ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی بس چلے تو وہ پوری کوشش کریں گے کہ نریندر مودی بھارت کے وزیراعظم بنیں اور وہ ان کی پوری حمایت کریں گے۔

اسی بارے میں