بھارت کے یوم جمہوریہ پر کشمیر پرسکون

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تقریبات کی سیکورٹی کے لیے انتظامات سے معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں

بھارتی یوم جمہوریہ کے موقعہ پر بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں مجموعی طور حالات پر سکون تھے اور ماضی کی طرح ناکہ بندی، تلاشیاں اور احتیاطی گرفتاریاں نہیں ہوئیں۔

حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر انٹرنیٹ اور موبائل فون رابطوں پر پابندی عائد کردی تھی۔

پولیس کے اعلیٰ افسر جے اے میر نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے حملوں کا خدشہ تھا اور یہ قدم سلامتی کی ضرورت کے طور پر اُٹھایا گیا۔

مسٹر میر کا کہنا تھا:’مسلح تشدد میں نمایاں کمی ہوئی ہے، لیکن اگر وادی میں ایک بھی شدت پسند موجود ہو، تو سلامتی کا خطرہ رہتا ہے۔‘

دریں اثنا علیٰٰحدگی پسندوں کی کال پر وادی میں ہڑتال کی جا رہی ہے۔ علیٰحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق، محمد یٰسین ملک اور شبیر احمد شاہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی یوم جمہوریہ کو’یوم سیاہ‘ کے طور پر منائیں۔

شبیر احمد شاہ کہتے ہیں: ’ کشمیر میں بھارت کو حق نہیں کہ وہ اپنے قومی دن یہاں منائیں، کیونکہ ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا جو وعدہ کیا تھا اسے اب تک پورا نہیں کیا گیا اور اسی وعدہ خلافی کی وجہ سے کشمیر میں تشدد بھی ہوا اور کشیدگی بھی جاری ہے۔‘

واضح رہے کہ ہر سال بھارت کے قومی دنوں کی مناسبت سے کشمیر میں کشیدگی رہتی ہے۔ حکام ان تقریبات کی سیکورٹی کے لیے جو انتظامات کرتے ہیں ان سے معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ علیٰحدگی پسندوں کی ہڑتال سے عام زندگی ٹھپ ہوکر رہ جاتی ہے۔

اسی بارے میں