عمران خان کے پروگرام کی ’بجلی گل‘

عمران خان
Image caption عمران خان کولکتہ کے بک فیئر میں شرکت کے لیے بھارت میں ہیں

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ عمران خان کولکتہ بک فیئر میں پیر کی شام لمبی اننگز کھیل رہے تھے لیکن انہیں آؤٹ کرنے کے لیے منتظمین نے ایک انتہائی غیر روایتی طریقہ اختیار کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ بک فیئر میں عمران خان کا پروگرام بہت لمبا ہو رہا تھا کہ اچانک بجلی گل ہوگئی۔

بعد میں منتظمین نے اعتراف کیا کہ بجلی گل ہوئی نہیں تھی کرائی گئی تھی تاکہ عمران خان کا پروگرام، جو مقررہ وقت سے تجاوز کرچکا تھا، بیچ میں ہی ختم کیا جا سکے۔

کولکتہ میں ایک بڑا کتابی میلہ جاری ہے اور اس کے تحت ادبی میلے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ عمران خان بھی اس ادبی میلے میں شرکت کر رہے تھے اور اپنی نئی کتاب کے کچھ اقتباسات پڑھنے کے بعد جب ان سے صحافیوں اور سامعین کے سوالوں کا سلسلہ شروع ہوا تو بات کھنچتی چلی گئی اور منتظمتین کا کہنا ہے کہ پریس کانفرنس کو ختم کرنے کا ان کے پاس کوئی اور طریقہ نہیں تھا۔

ادبی میلے کےمنتظمین ’پبلشرز اینڈ بک سیلرز گلڈ‘ کے سیکریٹری تردیو چٹرجی نے کہا کہ ’عمران خان مقررہ وقت سے پینتالیس منٹ کی تاخیر سے پہنچے تھے۔ اپنی کتاب کے کچھ اقتباسات پڑھنے کے بعد وہاں موجود صحافیوں نے ان سے سوال پوچھنے شروع کیے، پروگرام لمبا ہو جانے کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے بجلی گل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔‘

عمران خان نے ابھی اس سلسلے میں کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن کولکتہ سے صحافی پی ایم تیواری کا کہنا ہے کہ بجلی بند کیے جانے کے کچھ دیر بعد تک وہ اندیھرے میں ہی کھڑے رہے اور اس کے بعد اپنے محافظوں کے ساتھ نیچے اتر آئے۔۔۔عمران کے میلے سے جانے کے فوراً بعد بجلی کی سپلائی بحال ہوگئی۔ تب تک اسے تکنیکی خرابی ماننے والے لوگ اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب منتظمین نے اعتراف کیا کہ بجلی دانستہ طور پر بند کی گئی تھی۔‘

مسٹر چٹرجی نے کہا کہ سوال جواب کے لیے صرف پانچ منٹ کا وقت مقرر تھا لیکن یہ سلسلہ پینتالیس منٹ تک جاری رہا۔ ’آڈیٹوریم میں بھیڑ بڑھتی جارہی تھی اور پروگرام ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا، اسی جگہ دوسرا پروگرام بھی ہونا تھا اس لیے اس طریقے کا سہارا لینا پڑا۔‘

پی ایم تیواری کا کہنا ہے کہ منتظمین کے فیصلہ پر اب سخت تنقید ہو رہی ہے اور یہ سوال اٹھایا جارہا کہ کیا عمران خان سے پریس کانفرنس ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی؟

لیکن مسٹر ترویدی کا کہنا ہے کہ’ یہی واحد راستہ بچا تھا، عمران لوگوں کے سوالوں کے جواب دیتے دیتے تھک گئے تھے، ان کو آرام کی ضرورت تھی۔‘'

اس تقریب میں ہندوستان ٹائمّ کے سینیئر صحافی اور مصنف اندرجیت ہازرا بھی موجود تھے جنہوں نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ عمران خان بولنے کے لیے کھڑے ہوئے تو دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ ہال کے اندر فوٹو گرافروں کے درمیان ان کی تصویر لینے کے لیے جنگ سی چھڑ گئی تھی۔

’مصنف وکرم سیٹھ مجھ سے دو کرسیاں دور بیٹھے تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپکے کسی پروگرام میں بھی اس طرح کا ہنگامہ ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا:’ نہیں، اور اس کے لیے میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں!‘

اندرجیت ہازرا کے مطابق عمران خان یہ ہنگامہ آرائی دیکھتے رہے اور پندرہ منٹ کے انتظار کے بعد ہی انہوں نے بولنا شروع کیا۔۔۔’اور شاید پروگرام کو اسی انداز میں ختم کرنے کے لیے جیسے وہ شروع ہوا تھا، بجلی غائب ہوگئی اور عمران خان کو منتظمین اندھیرے میں ہی ہال سے باہر لے گئے۔‘

لیکن منگل کو مسٹر چٹرجی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ وہ دعا کر رہے تھے کہ عمران خان کا پروگرام کسی بھی صورت ختم ہوجائے اور پھر اتفاقاً چند لمحوں کے لیے بجلی غائب ہوگئی، یہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا۔‘

مسٹر چٹرجی نے یہ بھی کہا کہ عمران خان خود سوال جواب کے سیشن سے بچنا چاہ رہے تھے کیونکہ’ وہ بار بار ایک سے سوالات کا جواب دیتے دیتے تھک گئے تھے اس لیے انہوں نے منتظمین سے درخواست کی تھی کہ یہ سیشن بیچ میں ہی ختم کردیا جائے ۔۔۔ آج صبح میں نے عمران خان سے ملاقات کی، اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو معافی مانگنے کے لیے، لیکن مسٹر عمران خان نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، میں نے بھی راحت کی سانس لی تھی کیونکہ مجھے ایک اور پروگرام میں شرکت کرنی تھی۔‘

اسی بارے میں