’بھارت کی محدود پیمانےکی جنگ کی تیاری‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حال ہی میں چین اور بھارت نے سرحدی تنازعہ پر دلی میں بات چیت کی تھی

امریکی حکام کا خیال ہے کہ بھارت ہمسایہ ملک چین کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعہ پر چین کے جارحانہ موقف سے پریشان ہے اور اس کے خلاف ’محدود پیمانے کی جنگ‘ کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکہ میں نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جیمز کلپر نے واشنگٹن میں سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی تنازع پر چین کے موقف سے بھارت میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

’بھارت کی جانب سے اگرچہ ایسے بیانات جاری کیے جاتے ہیں جن سے یہ تاثر ملے کے فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ سرحدی تنازع پر چین کے موقف اور بحیرہ ہند میں اس کے جارحانہ رویے پر بھارت میں تشویش بڑھ رہی ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی فوج کا خیال ہے کہ چین کے ساتھ کسی بڑی جنگ کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔ ’لیکن بھارتی فوج سرحد پر محدود پیمانے کی لڑائی کے لیے اپنی افواج کو مضبوط کر رہی ہے۔‘

بھارت اور چین کے درمیان تقریباً چار ہزار کلومیٹر لمبی سرحد ہے لیکن اس کا حتمی طور پر تعین نہیں کیا جاسکا ہے۔ سب سے زیادہ اختلاف شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش اور لداخ کے خطے اکسائی چن پر ہے۔

اسی سرحدی تنازع کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان انیس سو باسٹھ میں جنگ بھی ہوئی تھی لیکن اس کے بعد سے تنازع کو حل کرنے کے لیے باہمی مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہیں ہوسکی ہے۔

چینی افواج کی بھارتی خطے میں ’دراندازی‘ کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں۔ لیکن بھارتی حکام کہتے ہیں کہ یہ واقعات سرحد کی واضح نشاندہی نہ ہونے کی وجہ سے پیش آتے ہیں اور ان پر چین سے سفارتی چینلوں کے ذریعہ شکایت کی جاتی ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ چین نے سرحد کے قریب سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر خاص توجہ مرکوز کی ہے۔

جیمز کلیپر نے کہا کہ چین نے اگرچہ پرامن اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہنے کا اعلان کیا ہے لیکن اگر اسے ایسا لگتا ہے کہ قومی سلامتی کو چیلنج کیا جارہا ہے تو وہ اس پالیسی کو ترک کرسکتا ہے۔

بھارتی مسلح افواج کے اعلیٰ ترین اہلکار بھی وقتاً فوقتاً براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہ کہتے رہے ہیں کہ بھارت کو اصل خطرہ پاکستان سے نہیں چین سے ہے اور یہ کہ بھارت کو کسی بھی ممکنہ خطرے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

بعض سابق سفارتکاروں کا بھی خیال ہے کہ بھارت نے چین سے لاحق خطرے کو خاطر خواہ توجہ نہیں دی ہے۔ حال ہی میں جب چین نے جموں وکشمیر کے باشندوں کو پاسپورٹ پر نہیں ایک الگ کاغذ پر ویزا جاری کرنا شروع کیا تو سابق خارجہ سیکریٹری کنول سبل نے کہا تھا ’یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ پہلی مرتبہ انہوں نے جموں و کشمیر کے ’سٹیٹس‘ کو چیلنج کیا ہے۔ بھارت کو سخت سیاسی کارروائی کرنی چاہیے۔‘

واضح رہے کہ چین دلائی لاما کی بھارت میں موجودگی پر بھی اعتراض کرتا رہتا ہے اور گزشتہ برس اس نے دلائی لاما کی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات اور مسٹر سنگھ کے دورہ اروناچل پردیش پر بھی اعتراض کیا تھا جس پر بھارتی حکومت کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔

اسی بارے میں