’مسلمان ہیں اس لیے قرض نہیں ملتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹانڈہ کے بنکر حکومت کے امتیازی سلوک سے پریشان ہیں

بھارت کی ریاست اتر پردیش کا ٹانڈہ قصبہ وزیراعلٰی مایا وتی کا انتخابی حلقہ رہ چکا ہے۔ بیشتر مسلم آبادی پر مشتمل یہ قصبہ اپنے کپڑا بننے کی صنعت کے لیے مشہور ہے لیکن یہاں اس صنعت سے وابستہ مسلمانوں کی شکایت ہے کہ تمام حکومتیں ان کے ساتھ تفریق برتتی رہی ہیں۔

لکھنؤ سے دو سو کلومیٹر کے مشرق میں واقع امبیڈکر ضلع کا ٹانڈہ قصبہ غربت، افلاس اور حکومتی بے توجہی کی ایک بہترین مثال ہے۔

یہاں تقریباً پچاس ہزار پاور لومز ہیں اور کپڑا بننے کی صنعت سے وابستہ سبھی افراد مسلمان ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلم اکثریتی قصبہ ہونے کے سبب حکومت نے پچھلے تیس چالیس برس میں نہ تو یہاں کوئی اسکول اور کالج کھولے، نہ کوئی سرکاری ادارہ قائم کیا اور نہ ہی یہاں کپڑے کی صنعت کی ترقی کے لیے کو ئی قدم اٹھایا۔

قصبے کے ایک دانشور طارق منظور کہتے ہیں’حکومت پورے ملک کے لیے سکیمیں اور منصوبے بناتی ہے لیکن ان کا یہاں نفاذ نہیں ہو پاتا۔ ساتھ ہی یہاں کے لوگوں کے لیے ایسی پیچیدگیاں پیدا کر دی جاتی ہیں کہ سرکاری اسکیموں تک ان کی رسائی نہیں ہو پاتی‘۔

بدلتی ہوئی اقتصادی پالیسیوں کے سبب کپڑا بنانے والے یا ’بُن کر‘ عموماً خراب حالت میں رہے ہیں۔ انتخابات کے وقت سیاسی جماعتی اکثر ان کے لیے کچھ مراعات کے نعرے دیتی رہی ہیں۔ اس بار بھی ان کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے تین ہزار کروڑ روپے کے قرضے معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لیکن ٹانڈہ کے مظہر انعام کہتے ہیں کہ جب وہ مسلمانوں کو قرضے دیتے ہی نہیں تو معاف کرنے کا کیسا ڈرامہ۔ ’مسلمانوں کو قرضے نہیں ملتے۔ سارے بینک انکار کر دیتے ہیں کہ ہم آپ کو قرض نہیں دیں گے‘۔

پاور لوم کی صنعت کا سب سے بڑا انحصار بجلی پر ہے۔ پہاں مرکزی حکومت کے تحت چلنے والا ایک ہزار میگا واٹ کا ایک بڑا بجلی گھر واقع ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کارخانوں کو مطلوبہ بجلی نہیں ملتی۔

ایک نوجوان صنعتکار آفاق اختر کا کہنا ہے کہ یہاں کی اقتصادی حالت پہلے سے بری ہوئی ہے۔’میرے پاس چھ پاور لومز ہیں۔ ان سے میری جتنی آمدنی ہوتی ہے اس پیسے میں صرف ہم زندہ رہ سکتے ہیں۔ بچوں کی پڑھائی لکھائی تو ممکن ہی نہیں ہے‘۔

اختر عالم ٹانڈہ میں ایک پبلک اسکول چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگ بھی اپنے حالات کے لیے ذمے دار ہیں۔ یہاں ایسی کوئي تحریک نہیں رہی ہے جو لوگوں کو ان کے حقوق کے بارے میں بیدار کرے۔''

لیکن مظہر انعام کہتے ہیں کہ بات سکیموں کے نفاذ اور تحریکوں کی نہیں دراصل حکومت مسلمانوں کی ترقی کے لیے کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی۔’جس طرح حکومت نے ہریجنوں کی ترقی کے لیے الگ قانون بنا کر انہیں اوپر اٹھایا وہی طریقہ مسلمانوں کو اوپر لانے کے لیے کیوں نہیں اختیار کیا جاتا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یوپی کے مسلمانوں میں اکثریت بنکر کی ہے

اتر پردیش کی بیس کروڑ کی آبادی میں تقریباً چار کروڑ مسلمان ہیں اور ان کی غالب اکثریت کپڑا بننے والوں پر مشتمل ہے۔ ٹانڈہ کے ایک سرکردہ کارکن انعام الہی کہتے ہیں کہ ریاست میں لاکھوں لوگوں کا ذریعۂ معاش ہونے کے باوجود حکومت نے اسے پوری طرح نظر انداز کر رکھا ہے۔

بُن کروں کا کہنا ہے کہ جس طرح کھیتی کا انحصار بارش پر ہے اور جس طرح بارش نہ ہونے پر حکومت کسانوں کو مختلف طرح کی مراعات دیتی ہے اسی طرح بجلی کی سپلائی خراب ہونے پر انہیں کو بھی مراعات دی جائیں۔

انعام الہی کہتے ہیں کہ ’حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور میں مسلمانوں کے لیے کھوکھلے نعرے تو بہت ہیں لیکن تباہ حال مسلم بُن کروں کے لیے ان کے پاس کوئی جامع پروگرام نہیں ہے‘۔

اسی بارے میں