ٹوجی معاملہ:تمام لائسنس منسوخ کر دیےگئے

Image caption سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے

بھارتی سپریم کورٹ نے اربوں روپے کے ٹو جی سپیکٹرم کیس میں انتہائی اہم فیصلہ سناتے ہوئے سن دو ہزار آٹھ کے بعد جاری کیے جانے والے سبھی ایک سو بائیس لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔

تاہم عدالت نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کے خلاف تفتیش کی درخواست میں مداخلت سے انکار کر دیا ہے۔

بدھ کو فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا ہے کہ پی چدمبرم کے خلاف کارروائی کرنے یانہ کرنے کے بارے میں فیصلہ ذیلی عدالت ہی کرے گی جو اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔

عدالت عظمی نے وزیر داخلہ کے متعلق ذیلی عدالت کو فیصلہ کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ سپریم کورٹ اس سلسلے میں تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ بھی مسترد کر دیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم سابق وزیر قانون سبرامیم سوامی اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن کی عرضداشتوں پر جاری کیے ہیں۔

ٹو جی سپیکٹرم کیس میں الزام ہے کہ اس وقت کے وزیر برائے ٹیلی مواصلات اے راجہ نے موبائل فون سروسز فراہم کرنے کے لیے بیش قیمت لائسنس اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو بہت کم قیمت پر جاری کیے تھے جس سے سرکاری خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ ان الزامات کے سلسلے میں اے راجہ اور کئی سابق اعلی سرکاری اہلکار جیل میں ہیں۔

عدالت کا فیصلہ یو پی اے حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکہ مانا جارہا ہے کیونکہ عدالت نے اس کے جاری کردہ تمام لائسنس منسوخ کرنے اور انہیں چار مہینوں کے اندر دوبارہ جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

لیکن عدالت کے فیصلے کے بعد پی چدمبرم نے راحت کی سانس لی ہوگی کیونکہ سپریم کورٹ نےان کے خلاف تفتیش کا حکم دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ٹو جی معاملے میں حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ جواب تو نہیں آيا ہے لیکن وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے صحافیوں سے بات چيت میں کہا ہے کہ ’فیصلہ آيا ہے اور حکومت اس فیصلے کا جائزہ لےگي‘۔

اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ منموہن سنگھ کی حکومت اپنے جس فیصلے کا پارلیمان اور باہر دفاع کرتی رہی تھی اسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔

پارٹی کے ترجمان روی شنکر پرساد نے کہا ’اب تو وزیراعظم منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کو ، جو ملک کی سب سے بڑی رہنما ہیں، اس پر کچھ کہیں۔ آخر حکومت کے غلط فیصلوں کے لیے کوئی تو جواب دہ ہو۔ کیا منموہن سنگھ اس کی ذمہ داری لیں گے؟‘

روی شنکر پرساد کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی شروع سے ہی یہ کہتی رہی ہے کہ منموہن سنگھ کی حکومت آزاد ہندوستان کی سب سے بدعنوان حکومت ہے اور ’اس حکومت کے اہم پالیسی ساز فیصلوں میں ایمانداری، شفافیت اور دیانت داری کا فقدان ہے‘۔

پارٹی نے ایک بار پھر اپنے اس مطالبے کو دہرایا ہے کہ وزیر داخلہ پی چدامبرم کو استعفی دیدینا چاہیے یا پھر وزیر اعظم انہیں برخاست کر دیں۔

کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اے بی بردھن نے اس فیصلے کو سرہا ہے اور کہا ہے کہ لائسنز منسوخ کر کے دوبارہ نیلامی سے حکومت کو جو نقصان پہنچا تھا اس کی تلافی کی جا سکے گي۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں پی چدامبرم کا کردار بھی شک کے دائرے میں ہے اور اس کی جانچ کی ضرورت ہے۔

حزب اختلاف کا الزام ہے کہ پی چدامبرم، جو لائسنسوں کے اجرا کے وقت وزیر خزانہ تھے، لائسنس جاری کرنے کے عمل میں ضابطوں کی خلاف ورزی روک سکتے تھے لیکن انہوں نے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی، لہذا اس پورے معاملے میں ان کے کردار کی بھی تفتیش ہونی چاہیے۔

بی جے پی اس مطالبے کو منوانے کے لیے پارلیمان میں بھی پی چدمبرم کا بائیکاٹ کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں