ٹو جی معاملہ: چدامبرم کیخلاف اپیل مسترد

پد چدامبرم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سبرامنیم سوامی نے الزام عائد کیا تھا کہ ٹوجی لائنسیز کے غیر قانونی اجراء کے لیے پدچدامبرم بھی ذمہ دار ہیں

دلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت نے ٹو جی معاملے میں وزیر داخلہ پی چدامبرم کو ملزم بنانے کی اپیل مسترد کردی ہے۔

عدالت میں یہ اپیل سابق مرکزی وزیر اور جنتا پارٹی کے سربراہ سبرامنیم سوامی نے داخل کی تھی۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد سبرامنیم سوامی نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

عدالت کے اس فیصلے کو پی چدامبرم کے لیے اطمینان بخش قرار دیا جارہا ہے۔

سبرامنیم سوامی نے عدالت میں درخواست دی تھی کہ پی چدامبرم کو ٹو جی معاملے میں ملزم بنایا جائے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے اربوں روپے کے ٹو جی سپیکٹرم کیس میں انتہائی اہم فیصلہ سناتے ہوئے سن دو ہزار آٹھ کے بعد جاری کیے جانے والے تمام ایک سو بائیس لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم عدالت نے وزیر داخلہ پی چدامبرم کے خلاف تفتیش کی درخواست میں مداخلت سے انکار کر دیا تھا۔

بدھ کو فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ پی چدامبرم کے خلاف کارروائی کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ ذیلی عدالت ہی کرے گی جو اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔

ٹو جی سپیکٹرم کیس میں الزام ہے کہ اس وقت کے وزیر برائے ٹیلی مواصلات اے راجہ نے موبائل فون سروسز فراہم کرنے کے لیے بیش قیمت لائسنس اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو بہت کم قیمت پر جاری کیے تھے جس سے سرکاری خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ ان الزامات کے سلسلے میں اے راجہ اور کئی سابق اعلٰی سرکاری اہلکار جیل میں ہیں۔

عدالت کا فیصلہ یو پی اے حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکہ کہا گیا تھا کیونکہ عدالت نے اس کے جاری کردہ تمام لائسنس منسوخ کرنے اور انہیں چار مہینوں کے اندر دوبارہ جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

حزب اختلاف کا الزام ہے کہ پی چدامبرم، جو لائسنسوں کے اجرا کے وقت وزیر خزانہ تھے، لائسنس جاری کرنے کے عمل میں ضابطوں کی خلاف ورزی روک سکتے تھے لیکن انہوں نے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی لہذا اس پورے معاملے میں ان کے کردار کی بھی تفتیش ہونی چاہیے۔

بی جے پی اس مطالبے کو منوانے کے لیے پارلیمان میں بھی پی چدامبرم کا بائیکاٹ کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں