افضل گورو کے لیے معافی کی نئی قرار داد

 انجنئیر شیخ رشید تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انجنئیر شیخ رشید نے اس ماہ کے آخر میں شروع ہونے والے بجٹ اجلاس میں ایک تازہ قرار داد پیش کرنے کے لئے سپیکر کو درخواست دی ہے

بھارتی پارلیمان پر حملے کے مجرم افضل گورو کے حق میں معافی کا مطالبہ کئی ماہ کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر سیاسی موضوع بن رہا ہے۔

کشمیر کی ستاسی رکنی اسمبلی کے ایک ممبر انجینیئر شیخ رشید نے اس ماہ کے آخر میں شروع ہونے والے بجٹ اجلاس میں ایک تازہ قرار داد پیش کرنے کے لیے سپیکر کو درخواست دی ہے۔

اس قرار داد میں کہا گیا ہے کہ جس طرح تمل ناڈو اسمبلی میں سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث افراد کے حق میں معافی کی قرار داد پاس کی گئی اسی طرح افضل گورو کے حق میں بھی معافی کی قرار داد پر بحث کی جائے۔

شمالی کشمیر کے لنگیٹ علاقہ کی نمائندگی کرنے والے انجینیئر رشید نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بھارت کشمیر کے معاملے میں دوہرا معیار نہیں اپنا سکتا۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور اپوزیشن دلّی والوں سے ڈرتے ہیں، اسی لیے اس قرارداد کی حمایت نہیں کرتے۔ ہم نے پھر یہ بیڑا اُٹھایا ہے اور اس بار پھر ہم ان سب کے ضمیر کو آواز دیں گے۔‘

قابل ذکر ہے کہ راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث بعض تمل نوجوانوں کو سنائی گئی پھانسی کی سزا کے خلاف تمل ناڈو اسمبلی میں بھی پچھلے سال اسی طرح کی قرار داد پاس کی گئی تھی جس کے بعد ملزموں کی پھانسی ٹل گئی۔‘

اس پر وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے سوالیہ انداز میں ٹوِیٹر پر لکھا تھا کہ ’اگر ہم بھی افضل گورو کے معاملے میں ایسا ہی کریں گے تو کیا بھارت اسی طرح خاموش رہےگا۔‘'

عمر کے ٹویٹ کے فوراً بعد انجینیئر رشید نے اسمبلی میں قرار داد لانے کا انکشاف کیا تھا۔ قرار داد لانے والے ممبر انجینیئر رشید نے عمر عبداللہ کو ’دلی کا غلام‘ قرار دیا ہے اور کہا کہ اگر حکومت ہند انہیں تیس کے بجائے پینتیس دن کے روزے رکھنے کو کہے تو وہ منع نہیں کرینگے۔

مسٹر رشید نے حریت کانفرنس کی خاموشی کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا: ’اگر حریت والے یہاں ہوتے تو میں اکیلا یہ جنگ نہ ہارتا۔ انہوں نے ایک ماہ سے اس معاملہ پر زبان تک نہ کھولی۔‘

اسمبلی میں قرار داد منظور تو نہیں ہوئی لیکن بھارتی پارلیمان پر دس سال پہلے ہوئے مسلح حملے میں پھانسی کی سزا پانے والے محمد افضل گُرو کے حق میں ہند نواز اور ہندمخالف تنظیموں نے ’افضل بچاؤ‘ مُہم شروع کردی ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک نے اس حوالے سے وادی کے تجارتی مرکز لال چوک میں ایک احتجاجی ریلی کی قیادت کی۔

یٰسین ملک کا کہنا ہے کہ بھارت میں جو حلقے افضل گورو کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ دراصل کشمیر کو ایک بار پھر مسلح شورش کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔

اُنیس سو اٹھانوے میں ایک بھارتی طیارے کے اغواء کا حوالہ دیتے ہوئے یٰسین ملک نے کہا: ’1984 میں جب کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ کو پھانسی پر لٹکایا گیا، تو یہاں اُس وقت کی نوجوان نسل میں اشتعال پیدا ہوگیا تھا جو بالآخر مسلح شورش کے رُوپ میں سامنے آیا۔ کیا آپ لوگ وہی آگ دوبارہ بھڑکانا چاہتے ہو؟‘

افضل گُرو نے حتمی فیصلہ ہونے تک تہاڑ جیل سے سرینگر جیل منتقلی کی درخواست کی تھی، لیکن وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اس درخواست کو مسترد کردیا۔

پچھلے سال 28 ستمبر کو ریاست کی قانون ساز اسمبلی میں افضل گُرو کے حق میں قرارداد پر بحث ٹل گئی تو سیاسی گروپوں نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا۔ قرارداد پیش کرنے والے رکن اسمبلی عبدالرشید نے کہا ’حکومت ہند نے عمرعبداللہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر یہ قرارداد منظور ہوئی تو انہیں وزارت اعلیٰ کی کرسی سے ہٹایا جائے۔ اس لیے انہوں نے ایک ڈرامہ رچایا اور قرارداد پیش نہ ہوسکی۔‘ بعد میں انجینیئررشید نے اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیا۔

سید علی گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں کہا ’افضل گُرو نے حتمی فیصلہ ہونے تک تہاڑ جیل سے سرینگر جیل منتقلی کی درخواست کی تھی، لیکن وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اس درخواست کو مسترد کردیا۔‘

افضل گُرو کو عدالت نے 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمان پر ہونے والے مسلح حملے کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے۔ افضل گُرو اور ان کی اہلیہ کی طرف سے رحم کی اپیل بھارت کے صدر کے پاس زیرِغور ہے۔حکومت ہند کی وزارت داخلہ نے پہلے ہی انہیں سزائے موت دینے کی سفارش کی ہے۔

اسی بارے میں