بنارس جو ایک ‌‌شہر تھا عالم میں انتخاب

بنارس تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تاریخی اعتبار سے بنارس قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے

بھارت کی ریاست اترپردیش کے مشرقی شہر بنارس میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں زوروں پر ہیں جہاں پندرہ فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

تاریخی اعتبار سے بنارس قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے جہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔

مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے اس شہر کو بڑی اہمیت حاصل ہے لیکن اس وقت بنارس بھارت کے پسماندہ شہروں میں سے ایک ہے جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔

بنارس میں ہندی اخبار دینک جاگرن کے مدیر رگھویندر چڈھا کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ذات پات اور فرقہ پرستی کی سیاست ہوتی رہی ہے اس لیے سیاسی جماعتیں ترقیاتی پروگرام کے وعدے تو کرتی رہی ہیں لیکن کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’بنارس کے لوگ پانی، بجلی، سڑک، روزگار اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ معاشی اعتبار سے اس علاقے کا برا حال ہے۔‘

مسٹر چڈھا کے مطابق قالین، ساڑھیاں اور سیاحت بنارس کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں لیکن حکومت کی بے توجہی کے سبب یہ صنعتیں بھی ماند پڑ چکی ہیں۔

’گزشتہ بیس برسوں سے مشرقی یوپی میں کوئی صنعت نہیں قائم ہوئی۔ جو کھاد کے کارخانے، چینی کی ملیں یا دیگر مقامی صنعتیں تھیں وہ بھی اب سب بند پڑی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کی یہاں انفراسٹکچر کھڑا کیا جائے اور بند پڑی فیکٹریوں کو کھولا جائے تب ہی روزگار بڑھےگا اور معاشی حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔‘

لیکن راگھویندر چڈھا کے مطابق موجودہ حالت سے لوگ اس قدر پریشان ہیں کہ ان کے لیے ذات پات، برادری یا فرقہ وارانہ مسائل کے بجائے ترقی اہم موضوع بھی بن گیا ہے۔

شہر کے ایک ادیب اور شاعر شاد عباسی کہتے ہیں کہ ریاست کی سبھی حکومتوں اور جماعتوں نے اس شہر کی ترقی کے پہلو کو یکسر نظر انداز کیا اور سڑکوں کی حالت یہ ہے کہ شہر پورا کھدا پڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنارس میں دنیا بھر کے سیاح آتے ہیں لیکن کسی کو اس کی فکر ہی نہیں کہ شہر کی حات بہتر کی جائے۔

’میری سمجھ کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ اس وقت سڑکوں کا ہے، آبادی بڑھ گئی لیکن راستے تنگ ہوگئے ہیں، ہر طرف روڈ پر افراتفری ہے اور جہاں دس منٹ جانے میں لگنے چاہئیں وہاں ایک گھنٹہ لگتا ہے۔‘

بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اختر شہر کی صورت حال سے بہت نالاں ہیں اور کہتے ہیں کہ بدنظمی کے سبب شہر کی شاندار تہذیب و ثقافت ماند پڑ چکی ہے۔

مسٹر اختر کے مطابق بنارس کے معروف شاعر نظیر بنارسی نے ’بنارس کو کعبہ ہندوستان کہا جاتا تھا لیکن آج اگر وہ اس کو دیکھتے تو ان کا نظریہ بدل جاتا۔ شام اودھ کی طرح صبح بنارس بھی ماند پڑ چکی ہے۔‘

لیکن وہ کہتے ہیں کہ عوام میں اب بیداری آئی ہے۔ انہیں اس پر تشویش ہے اور ’ہمیں لگتا ہے کہ اب تبدیلی ضرور آئیگی کیونکہ لوگوں کو جینے کے لیے بنیادی سہولیات چاہئیں اس لیے اس بار لوگ ترقیاتی اشوز پر ووٹ دیں گے جذباتی رو میں نہیں بہیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت کی ریاست اترپردیش میں اسبملی انتخابات کی سرگرمیاں زوروں پر ہیں

شور اور آلودگی سے بھری ہوئی سڑکوں پر چلتے ہوئے شہر کے شمالی علاقے کینٹ میں سماجوادی پارٹی کے ایک امیدار اشفاق احمد سے ملاقات ہوگئی جو اپنی انتخابی مہم کے لیے نکلے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’اس وقت، بجلی، سڑک، سیور اور صفائی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ ہماری ہی سیٹ پر نہیں بلکہ پورے شہر کو یہی بنیادی سہولتیں چاہئیں جس کے لیے لوگ ترس رہے ہیں۔‘

سکول کے ایک ٹیچر راجند کہتے ہیں کہ بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

’جب تک بدعنوانی پر قابو نہیں پایا جاتا اس وقت تک ترقی کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ اہم سوال کرپشن ہے۔‘

ایک نوجوان بنکر شماد احمد انصاری کہتے ہیں کہ ’انتخابات قریب آئے تو بہت سے اعلان ہوئے لیکن یہ فرضی وعدے ہیں اور یہ پہلی بار نہیں ہو رہا ہے۔ الیکشن کے ختم ہوتے ہی بنکروں کو دی جانے والی مرعات اور قرضوں کی معافی جیسے نعرے ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔‘

عبد المجید انصاری کا کہنا تھا کہ حکومت اگر تجارت کے فروغ کے لیے کچھ نہیں کر سکتی تو کم سے کم بجلی ہی مہیا کر دے ۔ ’اگر ٹھیک طریقے سے بجلی آئے تو ہم اتنا کما سکتے ہیں کہ ہماری روزی روٹی چلتی رہے گی۔ لائٹ نہیں تو کام نہیں اور کام نہیں دو دیہاڑی نہیں۔‘

پھل فروش راگھوناتھ پرساد سونکر کہتے ہیں کہ آج کل سبھی پارٹیوں کے رہنما ان سے ملنے آتے ہیں لیکن وہ چار عشروں سے یہی دیکھ رہے ہیں کہ انتخابات کے بعد انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔

ایک ایسے وقت جب بھارت کی معیشت پروان چڑھ رہی ہے اور کئی شہروں میں معاشی ترقی کی فصل عوام بھی کاٹ رہی ہے بنارس کے لوگ بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔ اچھے روزگار کے ساتھ ساتھ اچھی زندگی ان کے لیے ابھی ایک دور کا خواب ہے۔

اسی بارے میں