اترپردیش:پہلے مرحلے میں ریکارڈ پولنگ

Image caption اترپردیش کی کئی علاقوں میں بارش کی وجہ سے پولنگ کی رفتار سست ہے

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے پہلے مرحلے میں ریکارڈ تعداد میں ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

ریاست کے چیف الیکشن افسر امیش سنہا کے مطابق پہلے مرحلے میں ریکارڈ باسٹھ فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ انہوں نے اسے تاریخی موقع قرار دیا ہے۔

امیش سنہا نے کہا،’آزادی کے بعد یہاں سب سے زیادہ ووٹنگ ہوئی ہے اور ایسا بارش کے باوجود ہوا ہے اور سنہ 2007 کے مقابلے پولنگ کی شرح 16 فیصد زیادہ ہے‘۔

بدھ کو ابتدائی طور پر خراب موسم کی وجہ سے پولنگ سست روی کا شکار رہی تھی تاہم بعد میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ووٹ ڈالے۔

بیشتر علاقوں میں پولنگ سٹیشنوں پر لوگوں کی قطاریں دیکھی گئیں۔

بدھ کو پہلے مرحلے میں دس اضلاع کے پچپن حلقوں میں ووٹ ڈالےگئے جہاں مجموعی طور پر آٹھ سو سے زیادہ امیدوار میدان میں تھے اور تقریباً پونے دو کروڑ لوگوں کو حق رائے دہی حاصل ہے۔

یہ حلقے اودھ اور مشرقی اترپردیش کے سیتاپور، بارہ بنکی، فیض آباد، امبیڈکر نگر، بہرائچ، شراوستی، بلرام پور، گونڈا، سدھارتھ نگر اور بستی اضلاع میں واقع ہیں۔

جن پچپن نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے ان میں سے گیارہ نشستیں شیڈول کاسٹ ذاتوں کے لیے مخصوص ہیں۔

ان حلقوں میں تقریباً سات ہزار پولنگ بوتھ حساس قرار دیے گئے اور حفاظتی انتظامات سنبھالنے کے لیے نیم فوجی دستوں اور پولیس کے دو لاکھ اہلکار تعینات کیے گئے۔

چیف پولنگ آفیسر امیش سنہا کے مطابق پولنگ صبح سات بجے شروع ہو گئی تھی اور پہلے دو گھنٹے میں پولنگ کی شرح محض پانچ اعشاریہ ایک سات فی صد رہی۔

تاہم جوں جوں سردی میں کمی آتی گئی ووٹ ڈالنے کی رفتار میں اضافہ دیکھا گیا۔ چیف پولنگ آفیسر امیش سنہا نے بتایا کہ بھارت کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے تک پچپن اسمبلی انتخابی حلقوں میں چھبیس اعشاریہ آٹھ فیصد ووٹ ڈالے گئے۔

پہلے مرحلے کے انتخابات میں دو وزراء، اکتیس ارکانِ اسمبلی اور پندرہ سابق وزراء کے سیاسی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ پہلے مرحلے میں کانگریس میں پسماندہ طبقے کا چہرہ بن کر ابھرنے والے بیني پرساد ورما کے بیٹے راکیش ورما کو کانگریس نے بارہ بنکی کی درياباد سیٹ سے ٹکٹ دیا ہے۔

ادھر مایاوتی حکومت کے تین وزراء لال جی ورما، رام ہت بھارتی اور جنگ سنگھ ورما کی قسمت کا فیصلہ بھی اسی دور میں ہو جائے گا۔

یہ مرحلہ حکمران بہوجن سماج پارٹی کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ دو ہزار سات کے انتخابات میں بی ایس پی نے ان اضلاع میں شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے پچپن میں سے تیس نشستیں جیتی تھیں۔

ریاست اترپردیش کی تقریباً تمام چار سو تین نشستوں پر چار جماعتوں یعنی حکمراں بہوجن سماج پارٹی، سابقہ اسمبلی کی دوسری سب سے بڑی جماعت سماج وادی پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔

کانگریس نے راشٹریہ لوک دل کے ساتھ اتحاد کیا ہے جسے مغربی اترپردیش میں جاٹوں کے غلبے والے علاقوں میں کافی مقبولیت حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سات ہزار پولنگ بوتھ حساس قرار دیے گئے ہیں

مسلمانوں کی حمایت کے لیے بی ایس پی، سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے کیونکہ تقریباً سوا سو حلقوں میں مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔

کانگریس کی انتخابی مہم کی کمان راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے اور ان کے لیے بھی پہلے مرحلے کی پولنگ ایک سخت آزمائش ہوگی کیونکہ دو ہزار سات میں کانگریس نے یہاں صرف تین نشستیں جیتی تھیں۔

بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق ریاست اترپردیش میں سات مراحل میں پولنگ کرائی جائے گی تاکہ پورا عمل آزادانہ اور منصفانہ انداز میں مکمل کرایا جاسکے۔

اسی بارے میں