بنارس کی چمکتی ساڑیاں اور پریشان حال جولاہے

بنارس کا ایک بنکر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بنارسی ساڑياں اور سوٹ پوری دنیا میں مشہور ہیں

بھارت کا مشرقی شہر بنارس جیسے ہندو مذہب کی مناسبت سے بڑی اہمیت کا حامل ہے ویسے ہی وہ اپنی ساڑیوں کے لیے بھی بہت مشہور ہے۔ بنارسی ساڑياں پوری دنیا میں مشہور ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ مہنگی ہونے کے باوجود انہیں پسند کیا جاتا ہے۔

لیکن بہت کم لوگ اس حقیقت سے آشنا ہونگے کے بنارسی ساڑیوں کو اتنی خوبیوں سے مزین کرنے والے بنکر یا جولاہے معاشی بد حالی کا شکار ہیں۔

جیسے بنارس شہر پسماندگی کا شکار ہے ساڑی کی صنعت بھی زبوں حالی سے دو چار ہے اور حالت یہ ہے کہ اس وقت تاجر، جولاہے اور دھاگہ بنانے والے سبھی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔

ساڑی کی صنعت کو قریب سے دیکھنے والے شہر کے تجربہ کار صحافی اور تجزیہ کار سلمان راغب کہتے ہیں کہ پروان چڑھ رہی صنعتیں عالمی تجارتی تنظیم کے نظام سے مربوط ہیں، ’بنارس کی ساڑی مشہور تو ہے لیکن جدید تقاضوں کے مطابق اسے تجارت سے نہیں جوڑا گیا اور اسے بہتر بنانے اور مراعات کے دینے کے صرف اعلانات ہوتے رہے ہیں عمل نہیں ہوا‘۔

وہ کہتے ہیں،’دلی، کولکتہ اور ممبئی جیسے شہروں میں جو بنارسی ساڑی پچیس ہزار روپے میں بکتی ہے اس کا بنانے والا سال بھر میں مشکل سے اتنے پیسے کما پاتا ہے۔ حکومتیں بھی توجہ نہیں دیتیں لیکن جب تک یہ خلیج کم نہیں ہوتی اس وقت تک صنعت اور بنکر طبقے کی بہتری مشکل ہے‘۔

لوگوں کی عام شکایت یہ ہے کہ جب انتخابات آتے ہیں تو سیاسی جماعتیں جولاہوں اور ساڑی کی صنعت کی بہتری کے لیے بڑے بڑے وعدے کرتی ہیں لیکن الیکشن کے بعد کوئی انہیں نہیں پوچھتا۔

بنارس میں روزنامہ جاگرن کے مدیر راگھویندر چڈھا مانتے ہیں کہ ساڑی سے جڑا طبقہ معاشی طور پر بہت پریشان ہے۔’وعدے سبھی جماعتوں نے کیے لیکن اس پر عمل نہیں ہوا اور گزشتہ دس برسوں میں جہاں ان کی کی معاشی حالت خراب ہوئی ہے وہیں یہ صنعت بھی زوال پذیر ہے۔ جوتھوڑی بہت مدد حکومت نے دی اسی برادری کے دلال اسے ہڑپ گئے اور غریبوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا‘۔

شہر میں مدن پورہ کا علاقہ ساڑیوں کی تجارت کا مرکز ہے جہاں اس صنعت کے تئیں حکومتی بے توجہی کے متعلق سبھی شاکی ہیں۔

تاجر ریحان سہیل کا کہنا ہے کہ ’اس سیکٹر کو عشروں سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور اس وقت یہ معاشی بحران سے گزر رہی ہے اور اگر حکومت مدد کرے تو اسے بحال کرنے میں مدد ملےگی‘۔

لیکن سب سے زیادہ نقصان ان کروڑوں غریب جولاہوں کا ہوا ہے جو یومیہ مزدوری پر ان قیمتی ساڑیوں کا دھاگہ بناتے اور اسے بنتے ہیں۔ بنارس کے ایک بنکر عبدالمجید کہتے ہیں،’ہمارا کاروبار برباد ہورہا ہے لوگ عاجز آچکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ نئی نسل کے لوگ کام کے لیے شہر سے باہر جا رہے ہیں‘۔

ایک نوجوان بنکر شمشاد انصاری کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسےغریبوں کے لیے نہ تو سیاسی جماعت ہے اور نہ ہی کوئی رہنما۔ ’الیکشن ہے تو آج کل سب ہماری بات کرتے ہیں، سب فرضی وعدے ہیں کوئی کچھ نہیں کرے گا‘۔

ساڑیوں کے تاجر علی حسن کا کہنا ہے کہ ریشم کا دھاگہ روز بروز مہنگا ہوتا جارہا ہے اور ساڑی باہر تو مہنگی بکتی ہے لیکن ’اس کا فائدہ یہاں اس کے کام کرنے والوں کو نہیں پہنچتا‘۔

عام شکایت یہ ہے کہ ریشم اور ٹسر جیسے خام مال میں کالا بازاری بہت ہے اور جو مال ایک ہزار روپے کلو ملنا چاہیے وہ آج کل پانچ ہزار روپے میں ملتا ہے اور اس سے چھوٹے طبقے کے لوگ بہت متاثر ہوتے ہیں۔

بنارس اور مئو جیسے علاقوں میں مسلم برادری کے بیشتر افراد اسی صنعت سے جڑے ہیں اور ان کے لیے یہی معاش کا ذریعہ ہے لیکن اب حالات ایسے ہیں کہ لوگ بنکاری کا پیشہ چھوڑ کر روزی روٹی کے لیے جلا وطنی پر مجبور ہیں۔

بنارسی ساڑی جنوبی ایشیاء کے کئی ملکوں میں مقبول ہے اور کافی مانگ بھی رہتی ہے لیکن اس کی برآمدات کے بھی مسائل ہیں اور یہ کام غیر قانونی طور پر زیادہ ہوتا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت کئي سیکٹرز میں برآمد کے فروغ کے لیے مدد کرتی ہے لیکن انہیں براہ راست ایسی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ ریحان سہیل کا کہنا تھا ’اگر ایکسپورٹ کرنے کی سہولت دی جائے تو اس سے جڑے لوگ بحال ہو جائیں گے اور صنعت بھی چمک جائے گی‘۔

یوپی میں الیکشن سے قبل مرکزی حکومت نے بنکروں کو رعایتی شرح پر قرض دینے کا اعلان کیا تھا لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے لیے جو شرائط ہیں اس سے غریب لوگ فا‏ئدہ نہیں اٹھا سکتے۔

مشرقی یوپی میں لوگوں کی بڑی تعداد ساڑی کے کاروبار سے منسلک ہے اس لیے انتخابی ماحول میں سبھی سیاسی جماعتیں اس صنعت اور طبقے کی بہتری کی باتیں کررہے ہیں اور بڑے بڑے وعدے کیے ہیں۔ لوگوں کی کچھ امیدیں بھی وابستہ ہیں اس لیے وہ اب تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔

اسی بارے میں