بٹلہ ہاؤس:سونیا گاندھی روئی تھیں یا نہیں؟

سلمان خورشید تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وہ رو پڑیں اور کہا کہ انہیں یہ تصاویر نہ دکھائی جائیں:سلمان خورشید

بھارت کے وزیر قانون سلمان خورشید کا کہنا ہے کہ سونیا گاندھی بٹلہ ہاؤس تصادم کی تصاویر دیکھ کر رو پڑی تھیں، وہیں کانگریس پارٹی کے ديگر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔

اعظم گڑھ میں ایک انتخابی ریلی کے دوران سلمان خورشید نے کہا تھا کہ بٹلہ ہاؤس تصادم کی تصاویر دیکھ کر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی زاروقطار رو پڑی تھیں۔

سلمان خورشید کا کہنا تھا ’جب ہم نے بٹلہ ہاؤس تصادم کی تصاویر سونیا گاندھی کو دكھائي تھیں، تو وہ رو پڑیں اور کہا کہ انہیں یہ تصاویر نہ دکھائی جائیں۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ آپ کو فوری طور پر وزیر اعظم سے رابطہ کرنا چاہیے‘۔

تاہم پارٹی کے ایک سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ کا کہنا ہے کہ تصاویر دیکھ کر سونیا گاندھی روئی نہیں تھی اور یہ سلمان خورشید کے اپنے الفاظ ہیں۔

واضح رہے کہ بٹلہ ہاؤس تصادم کو حکومت صحیح قرار دے چکی ہے اور اس نے تصادم کی مجسٹریٹ تفتیش کرانے سے منع کر دیا ہے لیکن دگ وجے سنگھ بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ تصادم صحیح نہیں تھا۔

سنہ 2008 میں دلی کے بٹلہ ہاؤس علاقے میں دلی پولیس کے ساتھ مبینہ تصادم میں عاطف امین اور محمد ساجد نامی افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ محمد سیف اور ذيشان کوگرفتار کر لیا گیا تھا۔

عاطف امین اور محمد ساجد اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے اور دلی پولیس انہیں انڈین مجاہدین کا رکن مانتی ہے۔ اس تصادم میں دلی پولیس کے انسپکٹر موہن چند شرما بھی ہلاک ہوئے تھے۔

اس تصادم کے بعد دلی پولیس کے خلاف کئی بار احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ قومی حقوق انسانی کمیشن نے بھی اس معاملے کی تفتیش کی تھی۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں دلی پولیس کو کلین چٹ دے دی تھی۔

اسی بارے میں