کشمیر: بس حادثے میں عورتوں سمیت بیس ہلاک

بس حادثہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والوں میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں

ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے جنوب مغربی ضلع ڈوڈہ میں جمعہ کے روز ایک مسافر بس حادثہ کا شکار ہوگئی جس میں پانچ خواتین سمیت بیس افراد ہلاک ہوگئے۔

سرکاری حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ سرینگر سے تین سو کلومیٹر دوُر ڈوڈہ ضلع کے اندربی دیہات کے بیچ چلنے والی ایک مسافر بس جب گندوہ میں منوئی کے قریب پہنچی تو ایک خطرناک موڑ پر بس بےقابو ہو گئی اور پانچ سو میٹر نیچے دریائے چناب میں جاگری۔

حادثے میں ڈرائیور اور پانچ خواتین سمیت بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں اور بچ جانے والے مسافروں نے سرکاری ہسپتال کے باہر دھرنا اور حکومت مخالف مظاہرہ کیا ہے۔

مظاہرین میں شامل مقامی شہری غلام مصطفیٰ نے بی بی سی کو بتایا ’ہسپتال میں روئی تک نہیں تھی اور اکثر اموات زیادہ خون بہنے سے ہوئیں۔‘

مظاہرین کا الزام تھا کہ ایمبولینس کو بھی پڑوسی قصبہ ٹھاٹھری سے منگوانا پڑا۔

مصطفیٰ نے مزید بتایا کہ گندوہ کے ہسپتال میں سات ڈاکٹر اور نو نرسیں تعینات ہیں لیکن حادثے کے وقت صرف دو ڈاکٹر ہی موجود تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بس میں اکیس سے پچیس سال کی عمر کے بیشتر بے روزگار نوجوان سوار تھے جو ٹھاٹھری انٹرویو کے لیے جارہے تھے۔

واضح رہے بھارت کے وفاقی وزیرصحت غلام نبی آزاد بھی ڈوڈہ کے ہی رہنے والے ہیں۔

پیر پنچال پہاڑی سلسلے میں ڈوڈہ ، راجوری اور پونچھ ایسے اضلاع ہیں جہاں پچھلے پندرہ سال میں سینکڑوں افراد بس حادثوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کشمیر میں پچھلے چند سال سے ہرسال سڑک حادثوں میں مرنے والوں کی تعداد ان لوگوں سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے جو مسلح تشدد کے دوران مارے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں