کشمیر:’ابھی بندوق نہیں چھوڑی‘

مقبول بٹ کی برسی پر مارچ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مقبول بٹ کی اٹھاسویں برسی گيارہ فروری کو ہے

بھارت کے زیرِانتظام میں مسلح تحریک شروع کرنے والی پہلی تنظیم لبریشن فرنٹ نے اپنے بانی رہنما مقبول بٹ کی اٹھایسویں برسی پر کہا ہے کہ اگر کشمیریوں کی پرامن تحریک کو نظرانداز کیا گیا تو نوجوان دوبارہ مسلح تشدد پر آمادہ ہوجائیں گے۔

لبریشن فرنٹ نے ہرسال کی طرح اس بار بھی گیارہ فروری کو ہڑتال کی کال دی ہے۔

مقبول بٹ سرینگر کے شمال میں نوّے کلومیٹرکی دوُری پر واقع ترہگام میں پیدا ہوئے اور اُنیس سو ساٹھ کی دہائی میں مسلح مزاحمت کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔ انہیں قتل کے الزام میں بھارتی جیل تہاڑ کے صحن میں گیارہ فروری اُنیس سو چوراسی کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔

لبریشن فرنٹ اور بٹ خاندان عرصہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مقبول بٹ کے باقیات انہیں واپس کئے جائیں۔ سرینگر کے مزار شہدا میں مقبول بٹ کے عنوان سے ایک خالی قبر بھی بائیس سال سے تیار حالت میں ہے۔

ترہگام میں مقبول بٹ کے آبائی مکان میں ہر سال فروری میں گہماگہمی ہوتی ہے۔ ان کے چاروں بھائی غلام نبی، حبیب اللہ، منظور احمد اور ظہور بٹ مسلح تحریک کے ساتھ وابستہ رہے۔ تین بھائی تو مختلف کاروائیوں کے دوران مارے گئے، لیکن چھوٹے بھائی ظہور احمد بٹ کئی سال تک مسلح طور سرگرم رہنے کے بعد دو ہزار نو میں اپنی پاکستانی بیوی اور تین بچوں سمیت کشمیر آئے اور یہاں گرفتار کئےگئے۔ بعد میں وہ رہا ہوگئے۔

ظہور بٹ کہتے ہیں:’مقبول بٹ کا مشن ہے پاکستان اور ہندوستان سے کشمیر کی آزادی کا۔ ہم نے بندوق کے دہانے بند کئے ہیں لیکن بندوق ابھی چھوڑی نہیں ہے۔ اگر یہ مسلہ حل نہیں ہوتا تو ہم دوبارہ سرگرم ہوسکتے ہیں۔‘

مسٹر بٹ نے بتایا کہ پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں آج بھی عسکری تربیت کے لئے کیمپ موجود ہیں اور انہیں حکومت پاکستان بند نہیں کرسکتی۔ ’آزاد کشمیر تو متنازعہ ہے اور کشمیر کی تحریک کے لئے بیس کیمپ ہے۔ وہاں میں نے خود دیکھا کہ سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہاں تو حزب المجاہدین کے لڑکے شہید ہو رہے ہیں، یہ تو بڑا ثبوت ہے کہ سب کچھ ختم نہیں ہوا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مقبول بٹ کے تین بھائی مختلف کاروائیوں میں مارے گئے

دریں اثنا لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یٰسین ملک کی سربراہی میں جمعہ کے روز پارٹی کارکنوں نے اقوام متحدہ کی طرف ایک مارچ کیا جسے پولیس نے روکا اور یٰسین ملک کو حراست میں لیا گیا۔ اس پر مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور تصادم میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے پولیس نے لاٹھی چارج اور اشک آور گیس کا استعمال کیا۔

مسٹر ملک نے بی بی سی کو بتایا: ’تین سال سے کشمیریوں نے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہا کہ ہم مسلح تشدد نہیں پرامن راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ بھارت، پاکستان اور عالمی برادری اس تبدیلی کو نہیں سمجھیں گے تو یہاں حالات خراب ہوجائیں گے۔'

انہوں نے افغانستان کے حالات کا حوالہ دے کر کہا کہ دنیا اس وقت طالبان کے ساتھ بات چیت کرتی ہے حالانکہ ان کی تحریک مسلح تشدد پر مبنی ہے۔ 'ہمارے مسلہ کو نظرانداز کرکے آپ لوگ ہمیں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کیا آپ بتارہے ہیں کہ مسائل حل کرنے کا راستہ بندق ہے؟

اسی بارے میں