فوج پر نوجوان کی ہلاکت کا الزام

Image caption علاقہ میں اب بھی کشیدگی پائی جاتی ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں رفیع آباد کے علاقے میں مبینہ طور پر فوج کے ہاتھوں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ہلاک ہونے والے نوجوان بیس سالہ عاشق حسین راتھر کے لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جمعہ کی شب پیش آیا۔

ان کے مطابق بھارتی فوج نے گاؤں کا محاصرہ کیا جس کے دوران عاشق کو اس کے ہی گھر کے صحن میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس حکام نے جائے واردات کا دورہ کر کے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

عاشق کے چچازاد بھائی سرجان راتھر نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا،’اچانک فوج نے کچھ مکانوں کا محاصرہ کیا۔ ہمارے صحن کا دروازہ توڑا۔ مجھے اور میرے تین بھائیوں کو کہا کہ اندر بیٹھو، ہمارے ساتھ ہی میرے چچا کا مکان ہے۔ فوج وہاں گئی عاشق کو باہر نکالا اور مار ڈالا‘۔

علاقے کے اعلیٰ پولیس افسر امتیاز حسین کا کہنا ہے کہ وہ معاملہ کی تفتیش کررہے ہیں۔ سرجان راتھر کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس نے بتایا کہ فوج نے محاصرے کی پیشگی اطلاع مقامی پولیس کو نہیں دی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ ماضی میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے دو ہزار دس کی احتجاجی تحریک کے دوران ہلاکتوں کے بعد ہدایات دی تھیں کہ فوج کسی بھی آپریشن سے قبل مقامی پولیس کو مطلع کرے۔

واضح رہے فوج کو آرمڈ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ یا افسپا کے تحت لامحدود اختیارات حاصل ہیں۔

فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ رفیع آباد میں مسلح شدت پسندوں کی نقل و حرکت کے خلاف چند مقامات پرگھات لگائی گئی تھی اور اس دوران مسلح شدت پسندوں نے فائرنگ بھی کی ہے اور’ہم اس صورتحال کی تحقیقات کر رہے ہیں‘۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عاشق کی ہلاکت کے بعد رفیع آباد اور ملحقہ دیہات میں لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے عاشق حسین کی لاش دفنانے سے انکار کرتے ہوئے حکومت مخالف مظاہرے کیے۔

بعد ازاں پولیس کے اعلیٰ حکام نے انہیں قصورواروں کے خلاف کاروائی کا یقین دلایا اور میت کو دفن کرنے پر آمادہ کیا۔ تاہم علاقہ میں ابھی بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں