’ہماری تو کوئی بات ہی نہیں کرتا‘

ملیہآباد کے مسلمان
Image caption ملیہآباد میں بیشتر لوگ آم کے باغات میں کام کرتے ہیں

دسہری آم کے لیے مشہور اترپردیش کا شہر ملیح آباد میں ان دنوں ہر گلی، ہر چوراہے پر عام بحث کا موضوع ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات ہی ہیں۔

لیکن یہاں کے لوگوں کا جذبہ ہے کہ پوچھیے مت! مصیبت کے دنوں کو بھی اتنی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں آپ ان کے قائل ہوجائیں۔

مایاوتی اور ملائم سنگھ نے میں سے کس نے اپنے اپنے اقتدار میں ریاست اور علاقے کے لیے کیا کیا ہے اور کیا کر سکتے تھے، اس بات کا اندازہ صرف عام لوگوں سے بات کرنے کے بعد ہوتا ہے۔

محمد قاسم آم کے ایک باغ کے پیچھے بنے گھر میں رہتے ہیں اور سردیوں کے دنوں میں مونگ پھلی کا ٹھیلہ لگا کر اپنی گزر بسر کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’ہمارے علاقے میں اس بات سے زیادہ فرق نہیں پڑتا کہ ریاست میں کس کی حکومت ہے۔ جس کی بھی ہوگی وہ آم کے موسم میں آم کھاتے وقت ہمیں یاد تو ضرور کرے گا۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آم کے علاوہ ہمارے بارے میں دوسرا کوئی خیال ان لیڈروں کے دماغ میں نہیں آتا‘۔

ان دنوں قاسم صاحب کی روز کا معمول ذرا مختلف ہے اور اب انہیں انتظار ہوتا ہے ٹی وی چینلوں پر دکھائی جانے والی انتخابی خبروں کا۔

ان کا کہنا ہے، ’ کئی ماہ سے اردو اخبارات میں روز پڑھ رہا ہوں کہ مختلف پارٹیاں مسلمان ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے میں لگی ہیں۔ لیکن جناب یہاں تو ہم مسلمانوں کی زندگی میں جیسے آم کی مٹھاس کا تمغہ سا لگ گیا ہے۔ سبھی پارٹیوں کو لگتا ہے کہ ملیح آباد کے مسلمان تو کھاتے پیتے ہیں تو ان کے بارے میں بات کیا کرنے ضرورت ہے‘۔

ملیح آباد کسی زمانے میں ایک چھوٹے سا گاؤں تھا اور یہاں کے لوگوں کی پرانی عادتیں ابھی گئی نہیں۔ شام ہوتے ہی بڑے بوڑھے چوک پر بیٹھتے ہیں اور سیاست سے لے کر عام زندگی کے موضوعات پر خوب بحث کرتے ہیں۔

یہاں کے لوگوں کی شکایت ہے کہ انتخابات ہو یا نہ ہو یہاں کے لوگوں کے بارے میں کوئی نہیں پوچھتا ہے اور سبھی لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ ان کے بارے میں حکومت تبھی جاگتی ہے جب آم کا سیزن آتا ہے۔

ملیح آباد میں موجودہ سیٹ سماج وادی پارٹی کے پاس ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ سیٹ کس کی جھولی میں جائے گی۔

اسی بارے میں