اترپردیش انتخابات:دوسرے مرحلے میں 59 فیصد ووٹنگ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دوسرے مرحلے میں پولنگ کی شرح پچھہتر فیصد تک جا سکتی ہے:الیکشن کمیشن

بھارتی ریاست اتر پردیش میں حکام کے مطابق اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں انسٹھ فی صد ووٹنگ ہوئی ہے۔

ریاست کے الیکشن افسر امیش سنہا کے مطابق اس مرحلے میں نو اضلاع کے انسٹھ اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ ہوئی۔

جن نو اضلاع میں ووٹنگ ہوئی، ان میں اعظم گڑھ، کشی نگر، مہاراج گنج، غازی پور، بلیا، گورکھپور، سنت كبيرنگر، مئو اور دیوريا شامل ہیں۔

چار سو تین رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات کا یہ دوسرا مرحلہ تھا جس میں مشرقی اترپردیش کے دس اضلاع میں ووٹ ڈالے گئے۔ یہ علاقہ حکمراں بہوجن سماجی پارٹی کا گڑھ مانا جاتا ہے لیکن لاقانونیت کے لیے بھی کافی بدنام ہے جس کی وجہ سے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کا خیال ہے کہ سن دو ہزار سات کے انتخابات کے مقابلے میں اس مربتہ پولنگ کافی زیادہ رہے گی۔ پہلے مرحلے میں ریکارڈ باسٹھ فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے۔

ریاست کے چیف الیکٹورل افسر امیش سنہا کا کہنا ہےکہ صبح سے دوپہر بعد تک کے رحجان کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ دوسرے مرحلے میں بھی پولنگ ساٹھ فیصد سے زیادہ رہی ہے۔

دو ہزار سات کے انتخابات میں بی ایس پی نے ان انسٹھ سیٹوں میں سے تیس میں کامیابی حاصل کی تھی اور اگراسے اقتدار میں لوٹنا ہے تو یہاں اسے اپنی سبقت برقرار رکھنی ہوگی۔

دوسرے مرحلے میں نو اضلاع کی انسٹھ نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے جن کے لیے ایک ہزار اٹھانوے امیدوار میدان میں ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صبح کے وقت سست روی سے ووٹنگ ہوئی لیکن دوپہر کے بعد لوگ گھر سے ووٹ ڈالنے نکلے۔

غازی پور کے كھورانا گاؤں میں موجود بی بی سی ہندی کے اویناش دت کا کہنا ہے کہ پولنگ سست رفتاری سے شروع ہوئی ہے۔ اس علاقے میں یادو اور دلتوں کی اکثریت ہے اور یہاں کے ووٹر ذات کی بنیاد پر تقسیم ہیں۔

انتظامیہ کی سختی کی وجہ سے پورے علاقے میں کرفیو جیسا ماحول تھا۔ اِکّا دُکّا دکانوں کو چھوڑ کر تمام بازار بند تھے اور سڑکوں پر سناٹا چھایا ہوا تھا۔

انتخابات کو پرامن اور منصفانہ طریقے سے مکمل کروانے کے لیے اترپردیش کی ریاست بہار اور پڑوسی ملک نیپال سے ملنے والی سرحد سیل کر دی گئی ہے۔

دوسرے مرحلے میں چھیانوے مسلم امیدوار بھی شریک ہیں جبکہ رائے دہندگان کی کل تعداد ایک کروڑ بانوے لاکھ ہے۔ اس مرحلے میں چونتیس موجودہ اراکین اسمبلی کی قسمت بھی داؤ پر لگی ہے۔

الیکشن کے پہلے مرحلے میں بدھ کو ریاست کی پچپن نشستوں پر ووٹنگ ہوئی تھی اور خراب موسم کے باوجود پولنگ کی شرح ریکارڈ باسٹھ فیصد رہی تھی۔

پہلے مرحلے کے تاریخی ووٹنگ سے خوش الیکشن کمیشن نے امید ظاہر کی تھی کہ دوسرے مرحلے میں پولنگ کی شرح پچھہتر فیصد تک جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں