’منموہن وزیرِ قانون کی برطرفی کی سفارش کریں‘

سلمان خورشید اور وائی ایس قریشی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سلمان خورشید نے مسلمانوں کو رزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا

ہندوستان میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیراعظم منموہن سنگھ سے مرکزی وزیر قانون کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی نے سلمان خورشید پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’قانون بنانے والے ہی قانون توڑ رہے ہیں‘۔

وہیں حکمران کانگریس کے ترجمان جناردن دویدی نے کہا ہے ’انتخابی کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور کانگریس چاہتی ہے اس کے لیڈر قانون میں دھیان میں رکھ کر بات کریں‘۔

واضح رہے کہ اترپردیش کے شہر اعظم گڑھ میں ایک انتخابی جلسے کے دوران وزیرِ قانون سلمان خورشید نے یہ کہہ دیا تھا کہ الیکشن کمیشن چاہے ان پر پابندی لگائے یا پھر انہیں پھانسی دے دے، لیکن وہ پسماندہ مسلمانوں کو ان کا حق دلا کر رہیں گے۔

اس پر الیکشن کمیشن نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے سلمان خورشید پر ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں صدر سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے فوری اور فیصلہ کن قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اب اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر روی شنکر پرساد کا کہنا ہے کہ سلمان خورشید مرکزی وزیر ہیں اور اقلیتوں کے معاملات کے بھی وزیر ہیں اور وہ کھلے عام ’انتخابی کمیشن کی دھجیاں اڑانے پر آمادہ ہیں‘۔

حزب اختلاف کی ایک اور جماعت جنتادل(یونائٹیڈ) کے سربراہ شرد یادو نے مطالبہ کیا ہے حکومت اترپردیش میں سلمان خورشید کے جانے پر پابندی عائد کر دے۔

ان کا کہنا تھا ’خورشید نے جو کہا وہ سیاسی مقصد کے تحت کہا ہے ۔ وہ نو فی صد ریزرویشن کی بات کر رہے ہیں۔ اس میں صرف لوک سبھا ہی کـچھ کر سکتی ہے‘۔

سلمان خورشید کے خلاف شکایت پر قدم اٹھاتے ہوئے صدر پرتیبھا پاٹل نے سنیچر کی رات الیکشن کمیشن کا خط مناسب کارروائی کے لیے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دفتر کو بھیج دیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے صدر کو لکھے گئے خط میں شکایت کی تھی کہ وراننگ دیے جانے کے باوجود سلمان خورشید پسماندہ مسلمانوں کے ریزرویشن سے متعلق اپنے بیان پر قائم ہیں۔

ایس وائی قرشی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ وہ بڑی مایوسی کے ساتھ معاملے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے یہ خط لکھ رہے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ اتر پردیش میں جاری انتخابی مہم کے درمیان صدر اس معاملے میں دخل دیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے اپنے خط میں لکھا کہ سلمان خورشید نے ایک انتخابی جلسے کے دوران مسلمانوں کو دیگر پسماندہ ذاتوں کے ستائیس فیصد ریزرویشن میں سے نو فیصد ریزرویشن اقلیتوں کو دینے کا اعلان کیا تھا اور اس کے بھی اشارہ دیا تھا کہ اچھی خاصی آبادی والے مسلمانوں کو اس سے فائدہ بھی ہوگا۔

سلمان خورشید نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’الیکشن کمیشن چاہے مجھے پھانسی پر چڑھا دے، لیکن میں مسلمانوں کے حق کی بات کرتا رہوں گا‘۔

اسے کے علاوہ انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم مسلمانوں کا کوٹہ ساڑھے چار سے بڑھا کر نو فیصد کر دیں گے‘۔ ایس وائی قریشی نے لکھا ہے کہ ایک سیاسی پارٹی کی شکایت پر الیکشن کمیشن نے اس معاملے کو سنا اور اور نو فروری کو حکم جاری کیا کہ سلمان خورشید نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے

انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اس حکم کے باوجود گیارہ فروری کو انہوں نے سلمان خورشید کو ٹی وی پر یہ بیان دیتے ہوئے دیکھا ہے کہ الیکشن کمیشن کا ہدایات جو بھی ہو، وہ اپنے بیان پر قائم رہیں گے۔

اسی بارے میں