’مایاوتی نے دلتوں کے لیے کیا کِیا؟‘

اترپردیش کے دلت
Image caption ہندوستان میں دلت طبقہ پسماندگی کا شکار ہے

اتر پردیش کے کئی علاقوں میں دلت برادری پسماندگی کا شکار ہیں۔ حالانکہ وزیر اعلی مایاوتی اسی برادری کی ہیں اور ریاست کے دلت برادری ان کا مضبوط ووٹ بینک ہے۔

اكبرپور یا یوں کہیں، امبیڈکر نگر کو ہی لے لیجئے۔ قریب چار ہزار گاؤں والے اس بڑے ضلع کا نام انیس سو پچانوے تک اكبرپور ہی تھا۔

مایاوتی نے اسی سال اس کا نام بابا صاحب امبیڈکر بھيمراو کے نام پر کر دیا۔ واضح رہے کہ مایاوتی اسی علاقے مسلسل ممبر پارلیمان بھی رہیں۔

مجھے اس بڑے ضلع کے کچھ اہم علاقوں جیسے پركھڈو۔ بسكھاري، بھیٹی اور جلالپور میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ یہاں کے لوگوں کی مایاوتی کےبارے میں جو رائے ہے وہ حیرت انگیز ہے۔

بسكھاري کے رمیش کمار ایک دلت ہیں۔ رمیش مزدوری کرکے اپنی گزر بسر کرتے ہیں یا کھیتی کے موسم میں قریب کے کسانوں کی زمین میں کاشتکاری کر کے اپنا کام چلاتے ہیں۔

چوالیس سالہ رمیش کہتے ہیں ’نام بدلنے سے کچھ نہیں بدلا صاحب! بہن جی نے ہمارے لیے کیا کِیا؟ ہماری زندگی جیسی پہلے تھی ویسے ابھی بھی ہے۔‘

میں خود جب اس سے پہلے اکبرپور آیا تھا تو منظر کچھ اور ہی تھی۔ نہ تو یہاں ٹھیک سے سڑکیں تھیں اور بجلی بھی بہت کم وقت کے لیے آتی تھی۔اب یہاں سڑکیں بھی ہیں اور بجلی بھی زیادہ وقت کے لیے آتی ہے۔

اگر یہاں سڑکیں اور بجلی کا نظام پہلے سے بہتر ہے لوگوں کو شکایت کیوں ہے۔ جواب دیتے ہوئے ایک اور دلت شخص رام برن پاسی کہتے ہیں ’یہاں نوکریاں کہاں ہیں؟ گھر میں بیوی ہے، بچیں اور کمانے والا صرف میں! میں پنجاب جاکر کھیتوں میں مزدوری کرتا ہوں اور اپنے بیوی بچوں کا خرچ چلاتا ہیں۔‘

اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی نے دلتوں کے لیے بعض ایسی رعایات کا اعلان کیا ہے جس سے دلتوں کی زندگی بہتر ہو! لیکن ریاست میں مرکزی حکومت کی جانب سے MNREGA سکیم جس میں دیہی علاقوں میں مزدوروں کو دن کی مزدوری کے کم از کم سو روپئے مقرر کیے گئے، کا فائدہ ضرور ہوا ہے۔

مرکزی حکومت کی اس سکیم کا فائدہ اٹھانے والے ایک خاندان سے میری ملاقات ہوئی ان کا کہنا تھا کہ ان کے حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں لیکن وہ ووٹ مایاوتی کو ہی دیں گے۔ مایاوتی چاہے ان کے لیے کچھ کریں یا نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ یہ ہے کہ مایاوتی ان کی برادری کی ہیں اور وہ دلتوں کی ترقی کی بات تو کرتی ہیں۔

اسی بارے میں