سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ، ملزم کا اقبال جرم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سمجھوتہ دھماکے میں بیشتر پاکستانی شہری ہلاک ہوئے تھے

ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے ایک سابق رکن کمل چوہان نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ہی سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں وہ بم نصب کیے تھے جن کے پھٹنے سے اڑسٹھ لوگ ہلاک ہوئے۔

کمل چوہان کو قومی تفتیشی ادارے یا این آئی نے بارہ فروری کو دلی کے نواحی علاقے نوئیڈا سے گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے یہ دعوی چنڈی گڑھ کی ایک عدالت سے باہر نکلتے ہوئے صحافیوں کےسامنے کیا۔

انہوں نے کہا ’یہ دھماکے میں نے ہی کیے تھے، اور اپنی مرضی سے کیے تھے۔‘ کمل چوہان کے اس دعوے پر آر ایس ایس کے ترجمان رام مادھو نے کہا کہ این آئی اے نے ان سے زبردستی یہ بیان دلوایا ہے۔

این آئی اے کا خیال ہے کہ یہ حملہ ہندو شدت پسندوں نے کیا تھا۔ اس سے پہلے گزشتہ برس بھی ایک ہندو شدت پسند سوامی اسیم آنند نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن بعد میں انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنا بیان واپس لے لیا کہ اقبال جرم کے لیے ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ وہ فی الحال جیل میں ہیں۔

این آئی اے کے مطابق سازش میں چھ لوگ ملوث تھے۔ لوکیش شرما، جنہوں نے کمل چوہان کے ساتھ ملکر ٹرین میں بم نصب کیے تھے۔ سنیل جوشی جنہوں نے یہ سازش تیار کی تھی اور جنہیں دسمبر دو ہزار سات میں پر اسرار حالات میں قتل کردیا گیا تھا اور جوشی کے قریبی ساتھی اور فنانسر سندیپ ڈانگے اور رام چندر کلسانگرا۔

این آئی اے بھارت میں دہشتگردی کے بڑے واقعات کی تفتیش کرتی ہے اور یہ ادارہ ممبئی پر دو ہزار آٹھ کے حملوں کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔

این آئی اے نےگزشتہ جمعہ کو ملک کے بڑے اخبارات میں پانچ افراد کی گرفتاری کے لیے اشتہارات شائع کیے تھے جو اسے مختلف بم دھماکوں کے سلسلے میں مطلوب ہیں۔ لیکن ان میں کمل چوہان کا نام نہیں تھا۔

اشتہارات میں کہا گیا تھا کہ رام چندر کالسنگرا اور سندیپ ڈانگے کے بارے میں ادارے کو معلومات فراہم کرنے والوں کو دس دس لاکھ روپےکا انعام دیاجائے گا اور ان کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔ اس انعام کا اعلان پہلی مرتبہ گزشتہ برس جنوری میں کیا گیا تھا۔

سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے تیسرے ملزم، سریش نائر، کی گرفتاری کے لیے دو لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔ این آئی اے کےمطابق ان میں سے دو، مفت بھائی عرف مہیش بھائی اور سریش نائر، درگاہ اجمیر شریف پر حملے میں ملوث تھے اور ان کی گرفتار کے لیے دو دو لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے۔

پانچویں شخص کا نام امت عرف اشونی چوہان ہے اور وہ سمجھوتہ ایکسپیرس کے علاوہ اجمیر شریف کیس میں بھی مطوب ہے۔

رام چندر کالسنگرا اور سندیب ڈانگے سمجھوتہ ایکسپریس کے علاوہ موڈاسہ، مکہ مسجد، اجمیر شریف اور مالیگاؤں کے بم دھماکوں میں بھی ملوث بتائے گئے ہیں۔

سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین دلی اور لاہور کے درمیان چلتی ہے۔ اٹھارہ فروری دو ہزار سات کو رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ٹرین کے ایک ڈبے میں ہریانہ کے شہر پانی پت کے قریب دو دھماکے ہوئے تھے جس کے نتیجے میں اڑسٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مرنے والوں میں زیادہ تر پاکستانی شہری تھے اور اس حملے کے لیے پہلے اسلامی شدت پسند تنظیموں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

لیکن جب مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں ہندو شدت پسند تنظیم ابھینو بھارت شک کے دائرے میں آئی تو تفتیش کاروں نے دوسرے ایسے بڑے واقعات کی دوبارہ تفتیش شروع کی جنہیں حل کرنے میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

مالیگاؤں کے بم دھماکے سن دو ہزار چھ میں ہوئے تھے اور اس واقعہ میں سینتیس لوگ مارے گئے تھے۔ پولیس نے بم دھماکوں کے سلسلے میں سات مسلمانوں کو گرفتار کیا تھا جہیں پانچ سال جیل میں گزارنے کے بعد اب عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا ہے۔

این آئی اے نے جن ملزمان کی گرفتاری کے لیے اشتہار جاری کیے تھے ان میں سے دو کا تعلق گجرات سے اور دو کا مدھیہ پردیش سے ہے۔

اسی بارے میں