بھارتی خارجہ سیکرٹری مالدیپ کے دورے پر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد نشید مالدیپ میں جلدی انتخابات چاہتے ہیں

بھارت نے مالدیپ کی موجودہ سیاسی صورت حال کے پیش نظر اپنے خارجہ سیکرٹری رنجن متھائی کو بات چیت کے لیے وہاں بھیجا ہے۔

بھارتی خارجہ سیکرٹری رنجن متھائی وہاں کے صدر وحید حسن اور برطرف کیےگئے صدر محمد نشید سے ملاقات کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق بھارت ایک بڑا پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے چھوٹے سے مالدیپ جزیرے کے موجودہ سیاسی بحران میں اپنے لیے ایک اہم کردار کی تلاش میں ہے اور اسی لیے اس بار خارجہ سیکرٹری کو روانہ کیا ہے۔

محمد نشید کی برطرفی کے بعد بھارت نے وزارت خارجہ کے ایک سینیئر افسر ایم گنپتی کو کو مالدیپ بھیجا تھا لیکن ان کے دورے کا کوئي مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔

مالدیپ کی موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ محمد نشید اپنی مرضی سے مستعفی ہوئے تھے اس لیے انتخابات کا مطالبہ درست نہیں ہے۔

دوسری طرف نشید اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں طاقت کے زور پر ہٹایا گیا اس لیے فوری طور پر انتخابات کروائے جائیں۔

نشید حکومت میں وزیر خارجہ رہے احمد نسیم نے رنجن متھائی کے دورہ کا خیر مقدم کیا ہے لیکن وہ اس مسئلے پر بھارت کے موقف سے ناراضگي ظاہر کر چکے ہیں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت کے رویے سے ایسا لگتا ہے جیسے اس نے موجودہ حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ بھارتی خارجہ سیکریٹری رنجن متھائی کس موقف کی حمایت کریں گے لیکن وہ محمد نشید سے جمعہ کو ایک عام ریلی سے خطاب سے پہلے ہی ان سے ملنا چاہتے ہیں۔

نشید سے ملاقات کے بعد وہ صدر وحید سے ملیں گے اور انہیں بھی بھارت کے موقف سے آگاہ کریں گے۔

نشید چاہتے ہیں کہ بیرونی ممالک کے ایسے سینیئر نمائندوں کی آمد سے اس حکومت پر انتخابات کے لیے دباؤ پڑے گا اور اسی لیے انہوں نے رنجن متھائی کے دورہ کو سراہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت چاہتا ہے کہ وہ اس سیاسی بحران میں ایک اہم کردار ادا کرے لیکن وہ ابھی خود اپنی سمت نہیں طے کر سکا ہے کہ آخر وہ کس کے ساتھ ہے۔

اسی بارے میں