’داخلی سلامتی مشترکہ ذمہ داری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملک کی سلامتی مرکز اور ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے:چدمبرم

بھارت میں آٹھ ریاستوں کے وزرائے اعلٰی اور کئی بڑی علاقائی جماعتوں کی جانب سے قومی انسداد دہشتگردی مرکز کے قیام کی تجویز کی مخالفت پر مرکزی وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ داخلی سلامتی مرکز اور ریاستوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے یہ بات سنیچرکو کولکتہ میں نیشنل سکیورٹی گارڈز کے کولکتہ مرکز کے افتتاح کے موقع پر کہی۔

بھارت کی مرکزی حکومت نے سنہ دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملوں کے بعد کولکتہ، چنئي، حیدرآباد اور ممبئی میں نیشنل سکیورٹی گارڈز کے مستقل مراکز کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

چدمبرم نے اپنے خطاب میں کہا،’اندرونی سلامتی ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور ملک کی سلامتی مرکز اور ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بھارتی آئین نے پولیس اور قانون نظام کی ذمہ داری ریاست کو دی ہے لیکن ساتھ ہی دفعہ 355 کے تحت ملک کے ہر حصے کو بیرونی حملے اور اندرونی عوارض سے سلامتی کا کام بھی سونپا ہے‘۔

اس تقریب میں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نہیں آئیں انہوں نے مكل رائے کو اپنے نمائندے کے طور پر بھیجا۔ ممتا بینر جی بھی ان رہنماؤں میں سے ہیں جو قومی انسداد دہشتگردی مرکز کے قیام کی تجویز کے مخالف ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ممتا بنرجی حکومت کی سب سے بڑی اتحادی پارٹی کی سربراہ بھی ہیں

این سی ٹی سی کی مخالفت کرنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس ایجنسی کو جو حقوق دیے گئے ہیں اس سے بھارت کے وفاقی ڈھانچے میں ریاستوں کی حق تلفی ہوگی۔

این سی ٹی سی یکم مارچ سے کام شروع کر دے گا اور اس کی نگراں کمیٹی میں ریاستی اور وفاقی انسداد دہشتگردی اداروں کے سربراہ شامل ہوں گے اور اسے اپنی کارروائیوں میں نیشنل سکیورٹی گارڈ اور میرین کمانڈوز جیسی اعلیٰ تربیت یافتہ فورسز کو استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

حکومت کا خیال ہے کہ ریاستی اداروں کے سربراہان کو کمیٹی میں شامل کرنے سے خفیہ معلومات کے تبادلہ کا نظام بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

اس کے علاوہ ادارے کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت ملک کے کسی بھی حصے میں گرفتاریاں کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

فی الحال وفاقی ادارے ریاستوں کی مرضی کے بغیر ان کے خطے میں کوئی کارروائی نہیں کرسکتے کیونکہ آئین کے تحت امن و قانون کی ذمہ داری ریاستوں کو دی گئی ہے۔

اسی بارے میں