چوتھے مرحلے میں ستاون فی صد ووٹنگ

اترپردیش ووٹر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سب اپنی نظریں لکھنئو پر رکھے ہوئے ہیں۔

اترپردیش اسمبلی کے انتخابات کے چوتھے مرحلے میں دارالحکومت لکھنؤ سمیت 11 اضلاع کی 56 نشستوں پر کل ستاون فی صد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

سبھی اضلاع میں ووٹنگ پرامن رہی۔ کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔

لکھنؤ میں بی بی سی کے نامہ نگار پنکچ پريدرشي کے مطابق لکھنؤ اور آس پاس کے علاقوں میں سست آغاز کے بعد ووٹنگ میں تیزی آئی تھی۔

چوتھے مرحلے میں جن اضلاع میں انتخابات ہوئے ان میں ہردوئی، انناو، لکھنؤ، رائے بریلی، فرخ آباد، كننوج، باندا، چتركوٹ، چھترپتی شاہو جی، ، فتح پور اور پرتاپ گڑھ شامل ہیں۔

لکھنؤ میں كلراج مشرا، ریتا بہوگنا جوشی، راج ناتھ سنگھ اور مایاوتی نے ووٹ دیا ہے۔ مایاوتی نے نے صحافیوں کو طویل انتظار کرایا۔ لیکن اس انتظار کے بعد جب وہ پہنچیں تو پورے دعوے کے ساتھ کہا کہ انکی بہوجن سماج وادی پارٹی یعنی بی ایس پی ہی فاتخ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں بی ایس پی اپنے دم پر حکومت بنائے گی اور کسی کی حمایت کی اس کو ضرورت نہیں ہے۔کئی ایسے نوجوان بھی ووٹ دینے آئے جو پہلی بار ووٹ دے رہے تھے۔

سردی کی وجہ سے صبح پولنگ کی رفتار سست رہی لیکن دوپہر ایک بجے تک ووٹنگ کی رفتار میں تیزی آئی ہے۔

وہیں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ انناو میں ووٹنگ کو لے کر کافی جوش ہے۔ خاص کر گوپی رام علاقے میں کافی بھیڑ ہے جس میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس بار ووٹر اپنی پارٹی کے انتخاب کو لے کر خاموش ہیں اور زیادہ کچھ بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس مرحلے میں کل ایک ہزار چوالیس امیدواروں کی قسمت داؤ پر ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اس مرحلے میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ سے زائد ووٹر ان کے قسمت کا فیصلہ کریں گے۔

لیکن اس مرحلے میں شاید سب کی نگاہیں راجدھانی لکھنو پر ٹکی ہوئی ہیں۔ لکھنؤ میں کل آٹھ سیٹیں ہیں جن میں شہری علاقے کی چار سیٹیں اور دیہی علاقوں کی چار نشستیں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یہ ایک عرصے بعد پہلے اسمبلی انتخابات ہوں گیں جن میں بی جے پی کے كرشماي لیڈر اور سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی سرکردہ نہیں ہیں۔

چوتھے مرحلے کے انتخابات میں مرکزی وزیرِ قانون سلمان خورشید کی بیوی لوئس خورشید کے حلقہ انتخاب فرخ آباد میں ووٹنگ جاری ہے۔

اسی بارے میں