مدھیہ پردیش، لاپتہ کشمیری بچہ مل گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ایک دارالعلوم سے لاپتہ ہوا گیارہ سالہ کشمیری بچہ سات ماہ بعد گھر لوٹ آیا ہے۔ کشمیر میں بچوں کی گمشدگی کا یہ پہلا واقعہ ہے جس میں کوئی بچہ صحیح سلامت والدین کے پاس لوٹ آیا۔

گیارہ سالہ نظام الدین کےوالد غلام محمد وانی نے پچھلے سال کشیدہ صورتحال اور کمسن لڑکوں کی گرفتاریوں کے خدشہ سے ہی نظام کو مدھیہ پردیش کے سیندھوا دارالعلوم میں داخل کروایا تھا۔

دراصل یہ بچہ پچھلے کئی ماہ سے مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں شنکرلال پہاڑوانی نامی ایک تاجر کے یہاں رہ رہا تھا۔ پہاڑوانی نے نظام کو اپنے تینوں بیٹوں کے ہمراہ پالنے کا ارادہ کیا تھا اور سکول میں داخل کرنے کا ارادہ بھی کیا تھا۔

مدھیہ پردیش میں کشمیری بچہ لاپتہ

پہاڑوانی پاکستانی مہاجر ہیں اور سندھ میں پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی بی سی پر نظام الدین کی تصویر دیکھی تو انہوں نے مقامی پولیس کو مطلع کیا۔

ان سات ماہ کے دوران نظام کا لہجہ بدل گیا ہے اور وہ کشمیری نہیں بول سکتے۔ لیکن اس ننھے بچے کی زندگی کے ان سات ماہ کی کہانی دلچسپ ہے۔ وہ پچھلے برس ستمبر میں داخلے کے بعد دارالعلوم سے چند ہفتوں بعد ہی فرار ہوگیا اور ایک سو اسّی کلومیٹر دور اندور شہر پہنچ گیا۔

’دارالعلوم میں دل نہیں لگتا تھا‘

نظام الدین کا کہنا ہے کہ درالعلوم میں کھیل کود کا کوئی انتظام نہیں تھا اور نہ ہی ٹیلی ویژن کی سہولت۔ ’ایک گارڈ کو صبح سویرے جگانے کی ڈیوٹی تھی۔ جو نہیں جاگتا اس کی پٹائی ہوتی تھی۔ مجھے بھی کئی بار پیٹا گیا۔ جب تنگ آگیا تو درسگاہ کے پچھے بیت الخلاء کی کھڑکی سے کھسک گیا۔ دس کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرنے کے بعد میں نے بس پکڑی اور دارالعلوم سے اندور شہر کا رُخ کیا۔‘

اندور پہنچنے پر نظام الدین ایک چائے فروش کے یہاں برتن صاف کرنے لگا۔ چائے فروش نے نظام الدین سے کہا : ’کسی کو نہ بتانا کہ تم کشمیری ہو، کوئی کام پر نہیں رکھے گا۔‘

نظام الدین کے بقول اس کے بعد اس نے اپنا نام مُنّو بتایا اور کہا کہ نیپال سے ہے اور اس کا کوئی نہیں ہے۔ اسی دوران وہ شنکرلال پہاڑوانی کے آشیرواد ہوٹل میں پہنچا جہاں تین بیٹوں کے باپ پہاڑوانی نے اسے منہ بولا بیٹا بنالیا۔

’بہت یاد آتی ہے‘

نظام الدین کا کہنا ہے کہ پہاڑوانی کنبے میں وہ گھل مل گئے تھے۔ شنکر لال کا چھوٹا بیٹا رِشب اس کا گہرا دوست بن گیا تھا۔ ’مجھے رِشب کی بہت یاد آتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ کہ ان کا بینک اکاؤنٹ بھی کھولا گیا تھا اور شنکر لال نے انہیں سکول میں داخل کرانے کا بھی ارادہ کیا تھا۔

نظام الدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے کہا تھا ’میں قرآن پڑھوں گا لیکن مولوی نہیں بنوں گا۔‘

نظام الدین کے والد غلام محمد وانی نے بی بی سی، مدھیہ پردیش اور جموں کشمیر پولیس کے حکام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’میرا بیٹا تو مل گیا، لیکن میں چاہتا ہوں کہ حالات جیسے بھی ہوں کوئی بھی ماں باپ اپنے بیٹے کو زبردستی باہر نہ بھیجے۔ میں نے اسے کہہ دیا ہے کہ وہ جسی تعلیم چاہتا ہے ویسی ہی دوں گا۔‘

اسی بارے میں