'جوہری پلانٹ میں تاخیر، امریکی این جی او ذمہ دار'

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 24 فروری 2012 ,‭ 13:40 GMT 18:40 PST
کڈنکلم پلانٹ

کڈنکلم جوہری پلانٹ تمل ناڈو کے ترنلویلی ضلع میں واقع ہے

ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ریاست تمل ناڈو میں کڈنکلم جوہری پلانٹ شروع میں تاخیر کے لیے امریکہ کے غیر سرکاری اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

منموہن سنگھ یہ بات سائنس کے سرکردہ جریدے ’سائنس‘ میں کہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ امریکی گروپ بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو سمجھ نہیں پارہا ہے۔

کڈنکلم جوہری پلانٹ تمل ناڈو کے ترنلویلی ضلع میں واقع ہے جہاں ایک ہزار میگاواٹ کے دو پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔

سیکورٹی خدشات کے تحت مقامی لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے كڈنكلم جوہری پلانٹ کا کام متاثر ہوتا رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ منموہن سنگھ کا بیان بھارت کے اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب یہاں کے لیڈر ہر مسئلے کے لیے بیرونی ممالک کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

واضح رہے کہ کڈنکلم کی کئی ماہ سے مخالفت ہورہی ہے۔ اس مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ’آپ جانتے ہیں کہ کڈنکلم میں کیا ہورہا ہے‘۔

انہوں نے کہا ’بھارت کا ایٹمی توانائی پروگرام غیر سرکاری تنظیموں کی وجہ سے مشکل میں پڑ گیا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ان میں زیادہ تر امریکی ہیں جو ہمارے ملک کی توانائی سپلائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو نہیں مانتے ہیں۔‘

منموہن سنگھ نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت میں جینیاتی طور تبدیل گئی فصلوں کی بھی امریکہ میں مخالفت ہوغی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ’یہ ایک متنازع بات ہے۔ بعض غیر سرکاری تنظیمیں ہیں جو ترقی کے ان چلنجیز کو نہیں مانتے جن کا سامنا ہمارے ملک کو ہے۔ ان تنظیموں کو امریکہ سے مالی امداد ملتی ہے۔‘

لیکن منموہن سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم ایک جمہوریت ہیں۔ ہم چین کی طرح نہیں ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔