سونیا گاندھی کا ٹیکس تفصیلات دینے سے انکار

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 24 فروری 2012 ,‭ 13:35 GMT 18:35 PST
سونیا گاندھی

سونیا گاندھی کو ملک کی سب سے طاقتور سیاستدان مانا جاتا ہے

بھارت میں حکمراں پارٹی کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے ’سکیورٹی خدشات‘ کی وجہ سے اپنے انکم ٹیکس کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گوپالكرشن نام کے ایک شخص نے آر ٹی آئی یعنی معلومات کی رسائی کے حقوق کے قانون کے تحت یہ جاننا چاہا تھا کہ سونیا گاندھی نے سنہ 2000 سے شروع ہونے والے دس برس تک کتنا ٹیکس دیا ہے۔

اس سوال کے جواب میں سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ معلومات دینے سے ان کی سلامتی کےعلاوہ ان کی مالیت کو ’خطرہ‘ ہوسکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے اس بارے میں جانکاری دینے سے انکار کردیا ہے۔

انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو گزشتہ دسمبر بھیجی گئی اپنی درخواست میں مسٹر گوپالکرشن نے سونیا گاندھی کے سنہ دوہزار سے گزشتہ دس برس کے انکم ٹیکس کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

"شفافیت کے نام پر کسی تیسرے شخص کو اس طرح کی نجی معلومات فراہم کرنا انفرادیت پر حملہ ہے۔"

سونیا گاندھی

مسٹر گوپالکرشن کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان معلومات کو حاصل کرنے کے لیے اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔

مسٹر گوپالکرشن نے آر ٹی آئی قانون کے تحت انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو اپنی درخواست بھیجی تھی۔ انکم ٹیکس شعبہ نے محترمہ سونیا گاندھی کو نوٹس بھیجا تھا کہ وہ اپنے انکم ٹیکس سے متعلق درخواس کا جواب دیں۔ لیکن سونیا گاندھی نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

سونیا گاندھی نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ’شفافیت کے نام پر کسی تیسرے شخص کو اس طرح کی نجی معلومات فراہم کرنا انفرادیت پر حملہ ہے‘۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اس طرح کی معلومات دینا کسی طرح سے بھی عوام کے فائدے میں نہیں ہے۔

اس پر انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے بھی یہی کہا کہ یہ معلومات کسی طرح سے مفاد عامہ نہیں ہے۔ حالانکہ گوپالکرشن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔