اروناچل، ’چین کا اعتراض قابل افسوس‘

آخری وقت اشاعت:  پير 27 فروری 2012 ,‭ 07:47 GMT 12:47 PST

حال ہی میں چین اور بھارت نے سرحدی تنازعہ پر دلی میں بات چیت کی تھی

بھارت کے وزیر دفاع اے کے اینٹنی نے اپنے ارونا چل پردیش کے دورے پر چین کی جانب سے اعتراض کیے جانے کو قابل افسوس اور قابل اعتراض قرار دیا ہے۔

چین بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کو اپنا خطہ قرار دیتا ہے اور اس سے پہلے بھی بھارتی وزراء کے دوروں پر اعتراض کرتا رہا ہے۔

بھارتی وزیر دفاع اے کے اینٹنی ارونا چل پردیش کے دورے سے واپس آئے ہیں اور انہوں نے چین کے بیانات پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے اپنے سخت رد عمل میں کہا ’یہ میرا حق ہی نہیں بلکہ میرے فرائض میں ہے کہ میں اپنے ملک کے علاقوں کا دورہ کروں۔ اروناچل پردیش کا میں سنہ انیس سو چوراسی سے دورہ کرتا رہا ہوں اور میں اس ریاست میں ہونے والی ترقی سے بہت خوش ہوں، اروناچل پردیش تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔‘

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے بھی چین کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اس مسئلے کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ انہوں نے کہا ’بیجنگ کو بھارت کے اندورنی معاملات دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہیں۔‘

ایس ایم کرشنا نے کہا ’سبھی ساتوں شمال مشرقی ریاستیں بھارت کا حصہ ہیں اور چین کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اے کے اینٹنی کے اروناچل پردیش کے دورے کے حوالے سے اس طرح کا بیان جاری کرے۔‘

"یہ میرا حق ہی نہیں بلکہ میرے فرائض میں ہے کہ میں اپنے ملک کے علاقوں کا دورہ کروں۔ اروناچل پردیش کا میں سنہ انیس سو چوراسی سے دورہ کرتا رہا ہوں اور میں اس ریاست میں ہورہی ترقی سے بہت خوش ہوں، اروناچل پردیش تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔"

اے کے اینٹنی

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت اس مسئلے پر چين سے مناسب فورم پر بات چيت کرے گا۔

بھارتی وزیر دفاع چند روز قبل اروناچل پردیش کے دورے پر گئے تھے اور تب چين کی وزارت خارجہ نے اس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کو ایسے کسی بھی قدم سے بعض رہنا چاہیے جس سے سرحدی تنازعہ مزید پیچیدہ ہوجائے۔

چین پہلے بھی بھارت کی طرف سے اروناچل پردیش کے لیے کسی بھی اعلی سطحی دورہ پر اعتراض کرتا رہا ہے۔ چند برس قبل جب وزیر اعظم منموہن سنگھ ارونا چل پردیش گئے تھے تب بھی چین نے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔

چين بھارتی ریاست ارونا چل پردیش کو اپنا خطہ بتاتا ہے اور اسی لیے اس ریاست کے افسران کو ویزا جاری نہیں کرتا۔

ایسے ہی ایک حالیہ واقعے میں چين کے دورہ پر جانے والے بھارتی وفد میں شامل ارونا چل پردیش کے ایک اعلی افسر کو یہ کہہ کر ویزا نہیں دیا تھا کہ وہ چین کے شہری ہیں اور انہیں ویزے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد بھارت نے اپنے وفد میں کمی کر دی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔