دریاؤں کےجوڑنے کا آغاز کریں:سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دریاؤں کو جوڑنے کے منصوبے پر ابھی تک عمل نہیں شروع ہوا

بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملک کے دریاؤں کو جوڑنے سے متعلق منصوبے پر کام جلد شروع کرے۔

عدالت نے اس پر عمل درآمد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دیے جانے کی بھی ہدایات دی ہیں تاکہ اس پر باقاعدگی سے کام ہو سکے۔

ملک کے دریاؤں کو آپس میں جوڑنے کا منصوبہ کئی برس پرانا ہے اور اس میں تاخیر کے سبب ضرورت سے زیادہ پیسہ خرچ ہونے کی وجہ سے عدالت نے یہ ہدایات جاری کی ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا:’ ہم دریاؤں کو جوڑنے کے لیے مرکزی حکومت کو ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیتے ہیں۔ ہم کمیٹی کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ اس پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنائے۔‘

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس منصوبے میں پہلے ہی کافی تاخیر ہوچکی ہے جس سے خرچ بہت زیادہ بڑھ گيا ہے۔

عدالت کے حکم کے مطابق کمیٹی میں آبی وسائل کے وزیر، اس محکمہ کے سیکریٹریز اور وزارت ماحولیات کے سینیئر حکام سمیت دوسری وزارتوں کے ماہرین کو بھی شامل کیا جائیگا۔

اس میں ریاستی حکومتوں کے خصوصی نمائندے، دو سرکردہ سماجی کارکن اور اس معاملے میں سپریم کورٹ کے معاون وکیل رنجت کمار کو بھی شامل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

ملک کے دریاؤں کو آپس میں جوڑنے کا منصوبہ دو ہزار دو میں اس وقت کی اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نے پیش کیا تھا اور اس کے لیے ایک ٹاسک فورس بھی تشکیل دیا گيا تھا۔

اس کا مقصد ایک ہی موسم میں بعض علاقوں میں زبردست سیلاب اور دوسرے علاقوں میں سوکھے کی صورت حال سے نمٹنا تھا اور آبپاشی کے نظام کو مزید بہتر بنانا ہے۔

اگر ملک کے بڑے دریا آپس میں ایک دوسرے سے جوڑ دیں جائیں تو طغیانی والے دریاؤں کا پانی ان علاقوں کی طرف موڑا جا سکے گا جہاں پانی کی قلت ہوگي۔

اس سے سیلاب کی صورت حال سے بچنے میں مدد ملے گی اور قحط زدہ علاقوں میں بھی وافر مقدار میں پانی پہنچایا جا سکے گا۔

لیکن ماحولیات کے لیے کام کرنے والی کئی تنظیموں نے اس منصوبے پر یہ کہہ کر اعتراض کیا تھا کہ یہ منصوبہ قدرتی عمل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے کم نہیں اور اس سے ماحولیات کو بھی نقصان پہنچے گا۔

ایک تخمینے کے مطابق اس منصوبہ پر تقریبا پانچ لاکھ کروڑ روپے کی لاگت آئیگی اور اسے دو ہزار سولہ تک مکمل کرنا تھا۔

اسی بارے میں