نیوکلیئر پلانٹ احتجاج، جرمن شہری واپس

کڈنکلم پلانٹ
Image caption کڈنکلم جوہری پلانٹ تمل ناڈو کے ترنلویلی ضلع میں واقع ہے

بھارتی ریاست تمل ناڈو میں کڈن کلّم جوہری پاور پلانٹ کے خلاف احتجاج میں مدد کرنے کے الزام میں ایک جرمن شہری کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں ان کے ملک واپس بھیج دیا گیا ہے۔جرمن شہری سونگیٹ ہرمن کو نگر کول کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گيا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بھارت میں سیاحتی ویزے پر تھے لیکن وہ کوڈن کلّم کے جوہری پلانٹ کے خلاف ہو رہے احتجاج میں مظاہرین کی مدد کر رہے تھے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق سکیورٹی ایجنسیوں کی اطلاعات کے مطابق انچاس سالہ ہرمن کو پیر کی رات کو گرفتار کیا گیا تھا۔

انہیں پہلے ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چینائی لایا گيا اور پھر رات کو تقریباً ایک بجے انہیں ایئر پورٹ میں ایک فلائٹ پر سوار کر کے ان کے ملک جرمنی روانہ کر دیا گيا۔

کوڈن کلم جوہری پلانٹ روس کی مدد سے تعمیر کیا جا رہا ہے جس کے خلاف مقامی لوگ احتجاج کرتے رہے ہیں۔

چند روز قبل ہی بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کڈن کلم جوہری پلانٹ میں تاخیر اور احتجاج کے لیے بعض غیر سرکاری امریکی تنظیموں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

منموہن سنگھ نے یہ بات سائنس کے سرکردہ جریدے ’سائنس‘ میں کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکی گروپ بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو سمجھ نہیں پار ہے ہیں۔

کڈنکلم جوہری پلانٹ تمل ناڈو کے ترنلویلی ضلع میں واقع ہے جہاں ایک ہزار میگاواٹ کے دو پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔ سیکورٹی خدشات کے تحت مقامی لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے كڈنكلم جوہری پلانٹ کا کام متاثر ہوتا رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ منموہن سنگھ کا بیان بھارت کے اس وقت کی یاد دلاتا ہے جب یہاں کے لیڈر ہر مسئلے کے لیے بیرونی ممالک کو ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔

انہوں نے کہا تھا ’بھارت کا ایٹمی توانائی پروگرام غیر سرکاری تنظیموں کی وجہ سے مشکل میں پڑ گیا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ان میں زیادہ تر امریکی ہیں جو ہمارے ملک کی توانائی سپلائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو نہیں مانتے ہیں۔‘

اسی بارے میں