گجرات فسادات کے ملزم آزاد گھوم رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سینکڑوں لوگوں کے قاتل فسادی کھلے عام گھوم رہے ہیں

بھارت کی ریاست گجرات میں دس برس قبل احمد آباد میں گلبرگ سوسائٹی نام کے رہائشی کمپلیکس میں آگ لگائی گئی تھی۔ اس حملے میں سابق رکن پارلیمان احسان جعفری سمیت 69 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی روز شہر کے دوسرے علاقوں میں بھی حملے ہوئے تھے۔ ان واقعات کے دس برس گزرنے کے بعد بھی سینکڑوں لوگوں کے قاتلوں کو ابھی تک سزا نہیں ملی ہے اور وہ آزاد گھوم رہے ہیں۔

گلبرگ رہائشی کمپلیکس احمدآباد کے ایک مصروف علاقے میں واقع ہے۔ 28 فروری 2002 تک یہ رہا‏‏ئشی کمپلکیس زندگی سے بھرپور ہوا کرتا تھا۔ آج وہاں صرف جلی ہوئی عمارتیں باقی بچی ہیں پورا کمپلیکس ویران پڑا ہے جگہ جگہ جھاڑیاں اگ آئی ہیں۔

گودھرا کے واقعے کے بعد ہجوم کے حملے میں یہاں 69 لوگ مارے گئے تھے امتیاز پٹھان اس واقعے میں بچ گئے تھے۔ ’میرے گھر کے دس لوگ مارے گئے۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ گودھرا کے واقعے میں تو سو مسلمانوں کو نو برس تک جیل میں رکھا اور انہیں ضمانت پر بھی رہا نہیں کیا گیا۔ لیکن ہمارے معا ملے میں نامزد رپورٹ ہونے کے باوجود سبھی ملزم آزاد گھوم رہے ہیں۔ مسسلمان آتنک وادی لیکن یہ آتنکوادی نہیں۔‘

نروڈہ پاٹیہ احمدآباد کی ایک نواحی بستی ہوا کرتی تھی۔ یہاں بیشتر آبادی مسلمانوں کی تھی۔ فسادیوں نے اس بستی پر بھی حملہ کیا تھا۔ یہاں 98 لوگ مارے گئے تھے۔

شبانہ اسی بستی میں رہتی ہیں۔ وہ اپنی والدہ اور بہن کی ہلاکت کو بھول نہیں پاتیں۔’فسادیوں نے میرے سامنے انہیں قتل کیا تھا۔ اگر قاتلوں کو سزا ملتی تو شاید ہمیں کچھ تسلی ہوتی لیکن ملزم تو کھلے عام گھوم رہے ہیں۔‘

فسادات نے لوگوں کے ذہن و دماغ پر بہت گہرا اثر ڈالا ہے۔ لوگوں کے ذہن میں فسادات کا ایسا خوف بیٹھ گیا ہے کہ کوئی چھوٹا سا واقعہ بھی ہوتا ہے تو لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسرے محفوظ مقامات پر چلے جاتے ہیں۔

ایک مقامی ٹیچر نذیر خان کہتے ہیں ’فسادات کے بعد یہاں چین نہیں ہے۔ کہیں پر کوئی واقعہ ہوتا ہے لوگوں کو اپنی سلامتی کی فکر ہو جاتی ہے۔ لوگ یہاں سے چلے جاتے ہیں۔ وہ ڈر نہیں نکلےگا۔‘

ریاست کے دانشوروں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ فسادات کے بعد متاثرین کے زخم مندمل کرنےاور زندگی دوبارہ شروع کرنے کےلیے حکومت کی طرف سے جذباتی اور اقتصادی مدد ہونی چاہئے تھی وہ نہیں ہوئی۔ اور متاثرین کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا گیا۔

سرکردہ دانشور اور وکیل گریش پٹیل کہتے ہیں کہ ریاست میں جس طرح کا نظام ہے اس میں مسلمانوں کو انصاف مل پانا مشکل ہے۔ ’جب فسادات میں انتطامیہ کا کردار رہا ہو اور خود پولیس نے لغزش کا ارتکاب کیا ہو تو انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘

عدالت جلد ہی گلبرگ سوسائٹی اور نروڈہ پاٹیہ کے فسادات کے مقدموں کا فیصلہ کرنے والی ہے۔ یہ فیصلے صرف متاثرین کے لیے ہی نہیں مودی کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی بہت اہم ثابت ہونگے۔

اسی بارے میں