اتر پردیش: سماجوادی پارٹی کی واضح اکثریت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سماجوادی پارٹی کے کارکن جیت کی خوشی مناتے ہوئے

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے ابھی تک سامنے آنے والے نتائج سے واضح ہو گیا ہے کہ سماجوادی پارٹی کو واضح اکثریت مل جائے گی۔

اب تک جن دو سو اٹھہتر سیٹوں کے نتائج کا اعلان ہوا ہے اس پر سماج وادی پارٹی کو ایک سو ساٹھ سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ رجحانات کے مطابق اسے مجموعی طور پر پینسٹھ حلقوں میں سبقت حاصل ہے اور اب چونکہ گنتی آخری مراحل میں ہے اس لیے اس کی برتری قائم رہنے کا قوی امکان ہے۔

ریاستی اسمبلی میں چار سو تین سیٹیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے سماجوادی پارٹی کو دو سو تین سیٹیں درکار ہوں گی جو اسے آسانی سے حاصل ہوجائیں گي۔

انتخابات کے نتائج تصاویر میں

حکمراں بہوجن سماج پارٹی کو تقریباً ستّر سیٹوں پر برتری حاصل ہے اور اسے سخت دھچکا لگا ہے۔ سابقہ اسمبلی میں بہوجن سماج پارٹی کو واضح اکثریت حاصل تھی اور ریاست لمبے عرصے کی سیاسی غیر یقینی کے بعد کسی ایک پارٹی کی حکومت بنی تھی۔

لیکن مبصرین کے مطابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کا ’سوشل انجینیرنگ‘ کا فارمولہ اس مربتہ کامیاب نہیں ہوا اور وہ ناکام ہوگئیں۔

یو پی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کاردگي بھی اچھی نہیں ہے اور تقریباً پچاس حلقوں میں سبقت کے ساتھ وہ تیسرے نمبر پر ہے۔ کانگریس کے امیدوار چالیس حلقوں میں آگے ہیں اور نتائج اس کی توقع کے خلاف ہیں۔

اتر پردیش کے انتخابی نتائج قومی سیاست کے لیے بہت اہم ہیں کیونکہ وہاں سے سب سے زیادہ اسی اراکین لوک سبھا کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملائم سنگھ نے جیت کا سہرا اپنے بیٹے اکھیلیش سنگھ کے سر باندھا ہے

ادھر ریاست پنجاب میں حکمراں جماعت اکالی دل نے اپنی اتحادی جماعت بی جے پی کے ساتھ مل کر اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اس اتحاد نے ایک سو سترہ رکنی اسمبلی میں اڑسٹھ سیٹیں حاصل کی ہیں۔

کانگریس کو چھیالیس سیٹیں ملی ہیں جو اس کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔

ریاست پنجاب میں عام طور پر انتخابات کے بعد حکومت بدلتی رہی ہے لیکن اس بار اکالی دل نے پھر سے واضح اکثریت حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ تقریبا پینتالیس برس میں حکمراں جماعت نے دوبارہ اقتدار حاصل کیا ہو۔

چنڈی گڑھ میں میڈیا سے بات چيت میں اکالی رہنما پرکاش سنگھ بادل نے اپنی جیت کا اعلان کیا اور کانگریس پارٹی کے رہنما امریندر سنگھ نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔

دوسرے اہم مقابلے ریاست اتراکھنڈ اور گوا میں ہو رہے ہیں۔ اترا کھنڈ میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان تقریبا برار کا مقابلہ ہے اور دونوں اکتیس اکتیس حلقوں میں آگے ہیں۔

گوا میں بی جے پی کو واضح اکثریت ملنی تقریبا اب یقینی ہے۔ بی جے پی کے صدر نتن گٹکری نے دلی میں ایک پریس کانفرنس میں گوا میں اپنی جیت کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے یو پی میں ایس پی کی جیت پر ملائم سنگھ کو مبارک باد بھی دی ہے۔

شمال مشرقی ریاست منی پور میں کانگریس پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرکے دوبارہ اقتدار میں واپس آگئی ہے۔

اسی بارے میں