روئی کی برآمد پر پابندی، فیصلے پر نظرِثانی

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption روئی کی پیداوار اور برآمد کے لحاظ سے چین کے بعد بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔

بھارت کے وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے روئی کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کے حکومتی فیصلے پر نظرِثانی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

بھارت میں رواں ہفتے پیر کو روئی کی اندرونِ ملک ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت نے برآمدات پر پابندی لگا دی تھی۔

یہ متنازع فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب بھارت میں روئی کی برآمد میں اضافہ ہو رہا تھا اور فصلوں کی بیماریوں کی وجہ سے پیداوار میں کمی کا مسئلہ بھی درپیش تھا۔

بھارت کے وزیر برائے زراعی زمین شرد پاور نے اس بارے میں وزیرِاعظم منموہن سنگھ کو لکھا ہے کہ ملک میں روئی کی برآمد پر لگائی گئی پابندی کو ختم کیا جائے کیونکہ ’ہماری پیداوار اس سال زیادہ ہے اور کسان قیمتوں میں کمی کی شکایت کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب بھارتی ریاست گجرات کے وزیرِاعلیٰ نریندر مودی نے بھی منموہن سنگھ کو لکھا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ متاثرہ ریاستوں سے پوچھے بغیر کیوں کیا۔

تاہم بھارتی وزیرِاعظم نے یہ سب دیکھتے ہوئے اپنے وزراء سے اس فیصلے پر نظرِثانی کرنے کا حکم دیا ہے اور ایک جاری کردہ بیان کے مطابق اس بارے میں اجلاس جمعہ کو ہوگا۔

واضح رہے کہ روئی کی پیداوار اور برآمد کے لحاظ سے بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے رواں مالیاتی سال، جو اکتیس مارچ کو اختتام پذیر ہو رہا ہے، کے دوران پچاسی لاکھ روئی کی گاٹھیں برآمد کی ہیں جو حکومتی اندازے سے دس لاکھ زیادہ ہیں۔

اسی بارے میں