سارے وعدہ پورے کروں گا، اکھیلش یادو

اکھیلیش یادو
Image caption اکھیلیش یادو اترپردیش کے سب سے کم عمر وزیر اعلی ہونگے

بھارتی ریاست اترپردیش کے نامزد وزیر اعلی اکھیلش یادو نے کہا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو پوری ایمانداری کے ساتھ نبھائیں گے اور انتخابات سے پہلے کیے گئے سارے وعدے پورے کریں گے۔

اترپردیش میں حالیہ انتخابات میں فتح حاصل کرنے والی سماج وادی پارٹی کے اسمبلی ممبران نے سنیچر کو پارٹی کےسربراہ ملائم سنگھ یادو کے بیٹے اکھیلیش یادو کو ریاست کے نئے وزیراعلٰی کے طور پر نامزد کر دیا ہے۔

اکھیلیش یادو پندرہ مارچ کو وزیر اعلی کا حلف اٹھائیں گے۔ اڑتیس سالہ اکھیلیش یادو ریاست کے سب سے کم عمر وزیر اعلی ہوں گے۔

وزیر اعلی کے طور پر نامزد ہونے کے بعد اکھیلیش یادو نے کہا ’میں ایک بار پھر اترپردیش کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے سماج وادی پارٹی کو ایک بار پھر موقع دیا ہے۔‘

اس کے علاوہ انہوں نے کہا ’میں اترپردیش کی عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری پارٹی نے انتخابات سے پہلے جو بھی وعدے کیے تھے انہیں ہم ضرور پورا کریں گے۔‘

پارٹی کے سینیئر رہنماء رام گوپال یادو نے کہا ہے کہ ’اجلاس میں پارٹی کے رہنماء اعظم خان نے اکھیلیش یادو کا نام تجویز کیا جس پر سبھی متفق ہوئے۔‘

اکھیلیش یادو کے منتخب ہونے کے اعلان بعد لکھنئو میں سماج وادی کے دفتر کے باہر جشن کا ماحول تھا۔

ایسا کہا جاتا ہے کہ وزیر اعلی کے عہدے کے لیے اکھیلیش یادو کے نام پر پارٹی کے اندر پہلے ہی اتفاق ہوچکا تھا حالانکہ باقاعدہ اس کا اعلان سنیچر کو کیا گیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس وقت اکھیلیش یادو ایک مقبول نوجوان رہنماء ہیں اور انہیں وزیراعلی بنانے کا فیصلہ صحیح وقت پر کیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اکھیلیش یادو نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے اپنے آپ کو جوڑا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سماج وادی پارٹی نے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

ذرائع کے مطابق اکھلیش یادو کے نام پر پارٹی ممبران تو متفق تھے لیکن ملائم سنگھ کے خاندان کے چھوٹے بھائی شوو پال یادو یہ چاہتے تھے کہ اگر ملائم سنگھ یادو وزیر اعلی نہیں بنتے تو انہیں موقع ملنا چاہیے۔

سیاسی اعتبار سے انتہائی اہم ریاست اترپردیش میں ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی نے دو سو چوبیس نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی ہے۔

یوپی میں سماج وادی پارٹی نے اس سے پہلے بھی جیت حاصل کی تھی لیکن اتنی بڑی جیت اسے پہلی بار ملی ہے اور سنہ انیس سو پچاسی کے بعد پہلی مرتبہ کسی بھی جماعت کو سوا دو سو نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

یہ تیسرا موقع ہے کہ پارٹی نے ریاست میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اسی بارے میں