’دس سال سے یہ سازش جاری ہے‘

سماجی کارکنان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سید محمد کاظمی ایک لمبے عرصے سے صحافت سے منسلک ہیں

بھارت کے سرکردہ سماجی کارکنوں اور بعض صحافیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی سفارتخانے کی ایک کار ہونے والے دھماکے کے سلسلے میں صحافی سید محمد کاظمی کی گرفتاری ایک سازش کا حصہ ہے۔

سرکردہ غیر سرکاری تنظيم انہد اور جامعہ ٹیچرز سولیڈارٹی کے علاوہ بعض سرکردہ صحافیوں نے سنیچر کو دلی میں ایک پریس کانفرنس کی اور حکومت سے اپیل کی وہ سید کاظمی کی رہائی کے لیے جلد سے جلد کارروائی کرے۔

اس موقع پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی سعید نقوی نے کہا ’میں نے کاظمی کے ساتھ ایک لمبے وقت تک کام کیا ہے اور وہ ایک بے حد باصلاحیت صحافی اور ایماندار شخص ہیں۔ وہ ایک صحافی ہیں جنہیں عربی اور فارسی زبانوں میں مہارات حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایک واحد صحافی ہیں جو ایران کے حالات، عراق جنگ، شام میں جاری کشیدگی کے بارے میں لکھتے رہے ہیں اور ایران اور اسرائیل کے رشتوں پر ایک پختہ رائے رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں دلی پولیس نے نشانہ بنایا ہے۔‘

اس موقع پر سید محمد کاظمی کی بغیر کسی شرط کے رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سرکردہ صحافی سیما مصطفی نے کہا ’دلی سپیشل سیل کو ختم کردینا چاہیے کیونکہ وہ جس طرح سے کام کر رہی ہے وہ لوگوں کی سیکورٹی چھین رہا ہے۔ ہمیں سپیشل سیل پر کوئی بھروسہ نہیں رہا ہے۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ محمد کاظمی کی رہائی کے لیے جلد سے جلد سے اقدامات کرے'۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ’ہندوستانی میڈیا جو پولیس کہتی ہے اسے ہو بہو شائع کردیتے ہیں اور وہ نہیں سوچتے ہیں کہ اس سے کتنی زندگیاں بربار ہوتی ہیں۔ کاظمی کی گرفتاری کے اگلے ہی دن ذرائع ابلاغ میں میں آنا شروع ہوگیا کہ کاظمی کون ہے اور کس کے لیے لکھ رہے تھے وغیرہ وغیرہ۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیما مصطفی نے میڈیا پر ایک طرفہ رپورٹنگ کا الزام عائد کیا ہے

اس موقع پر سماجی تنظيم انہد کی سربراہ شبنم ہاشمی کا کہنا تھا کہ’ہندوستان میں جس طرح سے مسلمان بچوں کو حراساں کیا جا رہا ہے اور جس طرح سے شدت پسندی کے نام پر مسلمانوں کو الگ تھلگ کیا جا رہا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ اس ملک میں مسلمان ہونا ہی گناہ ہوگیا ہے۔ اگر ایسے ہی حالات ہونے ہیں تو بہتر ہے کہ مسلمان خود خودکشی کرلیں۔ کیونکہ اگر کسی ماں کو اس بات کا بھروسہ ہی نہیں کہ اس کا بیٹا شام کو گھر واپس آئے گا یا نہیں تو ایسے ہندوستان میں جینے کا فائدہ کیا ہے۔ یہ سچائی ہے کہ اگر کاظمی کا نام کاظمی نہیں ہوتا تو انہیں رہا کردیا جاتا ہے۔ یہ سب گزشتہ دس برس سے جاری ایک سازش کے تحت کیا جارہا ہے۔ اب تو یہ لگنے لگا ہے کہ یہ ملک ہمارا ملک نہیں ہے'۔

اس موقع پر موجود سید محمد کاظمی کے بیٹے تراب علی کاظمی نے کہا ہے ’گزشتہ دو دن سے ہمیں اپنے پاپا سے ملنے نہیں دیا گیا ہے۔ دو دن پہلے جب ہم نے ان ملے تھے تو بہت پریشان نظر آ رہے تھے اور انہوں نے زیادہ بات بھی نہیں کی، ان کو سپشل سیل والوں نے گھیر رکھا تھا۔‘

انکا مزید کہنا تھا کہ انکے والد’ بے گناہ ہیں اور بہت ایماندار صحافی ہیں۔‘ انہوں نے میڈیا اور حکومت سے اپیل کی وہ ان کے والد کے رہائی کے لیے اقدامات کریں۔

واضح رہے کہ سید محمد کاظمی کو چھ مارچ کو دلی کے انڈین اسلامک سینٹر سے باہر نکلتے وقت دلی سپیشل سیل کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا اور ان سے پوچھ گچھ کے بعد بیس دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

سید محد کاظمی ایک لمبے وقت سے ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے لیے لکھتے رہے ہیں اور ہندوستان کے مختلف اخبارات میں کالم لکھتے ہیں۔اس سے پہلے وہ بھارت کے سرکاری نیوز چینل ڈی ڈی نیوز کے لیے بھی کام کرچکے ہیں۔

سید محمد کاظمی کی گرفتاری کے بارے میں حکومت اور پولیس کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ تیرہ فروری کو دلّی کی اورنگ زیب روڈ پر موٹو سائیکل پر سوار ایک شخص نے اسرائیلی سفارت خانے کی ایک کار میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

دھماکے کے نیجے میں کار میں سوار ایک اسرائیل سفارت کار کی اہلیہ سمیت چار افراد زخمی ہوئے تھے۔

اسرائیل نے اس کے لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا لیکن ایران نے اس کی سختی سے تردید کی تھی۔

اس سے قبل دلّی پولیس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

بھارتی حکومت نے اس دھماکے میں ملوث افراد کے بارے میں ابھی تک معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ لیکن ایران نے الزام لگایا تھا کہ دلی کے دھماکے میں اسرائیلی ایجنٹوں کا ہاتھ تھا۔

ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سفارتکار کی کار پر حملے کے لیے جس طرح کے مقناطیسی بم کا استعمال کیا گیا وہ اسی طرح کا بم تھا جس طرز کا بم تہران میں کئی ایرانی جوہری سائنسدانوں کو ہلاک کرنے میں استعمال ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں