’پینتیس فیصد نومنتخب اراکین پر مقدمات‘

اترپردیش میں انتخاب میں کامیابی پر جشن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش میں سب سے زیادہ ایم ایل اے کے خلاف مقدمے ہیں۔

ایک آزاد نگراں ادارے کے ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی پانچ ریاستوں کی اسمبلیوں کے حالیہ انتخابات میں منتخب ہونے والے ایک تہائی سے زیادہ اراکین کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔

نگراں ادارے دی ایسوسی ایشن فار ڈیوکریٹک ریفارمز یعنی جمہوری اصلاحات کے ادارے نے کہا ہے کہ چھ سو نوے منتخب ایم ایل اے میں سے دو سو باون ارکان کے خلاف مقدمات درج ہیں اور یہ پینتیس فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق منی پور ایسی واحد ریاست ہے جہاں منتخب ہونے والے کسی بھی رکن اسمبلی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہے۔

نگراں ادارے کے مطابق باقی چار ریاستوں میں سنہ 2007 میں کامیاب امیدواروں کے مقابلے میں اس بار کے انتخابات میں مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے امیدواروں کی تعداد میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اس آزاد نگراں ادارے کی بنیاد وہ حلف نامے ہیں جو امیدواروں نےانتخابات میں نامزدگی کی دستاویزات داخل کرنے سے قبل فراہم کیے تھے۔

تجزیہ کے مطابق بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش سے ہی سب سے زیادہ ایم ایل اے آتے ہیں جن کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج ہوتے ہیں۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ ریاست میں ایک سو نواسی یعنی تقریبا سینتالیس فیصد ایم ایل اے ایسے ہیں جن کے خلاف مجرمانہ مقدمات ہیں اور یہ ان کے داخل کردہ حلف ناموں سے واضح ہے۔

برسر اقتدار کانگریس پارٹی نے اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا کی ریاستوں میں ہوئے اسمبلیوں کے حالیہ انتخابات میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسی بارے میں