وجے بہوگنا، اترا کھنڈ کے نئے وزیر اعلیٰ

وجئے بہوگنا
Image caption مسٹر بہوگنا اتراکھنڈ کے نئے وزیر اعلی بنے ہیں

بھارت کی پہاڑی ریاست اترا کھنڈ میں کانگریس کے سینیئر رہنما ہریش راؤت کے علم بغاوت کے بعد پارٹی نے نئی حکومت تشکیل دی ہے اور وجے بہوگنا نے وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھایا ہے۔

منگل کو دوپہر بعد ریاست کی گورنر مارگریٹ الوا نے ایک مختصر سی تقریب میں وجے بہوگنا کو وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھوایا۔

ان کے ساتھ کسی دیگر وزیر کو حلف نہیں دلایا گيا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہریش راؤت وزیراعلیٰ کے اصل دعویدار تھے اور پارٹی ارکان کے بکھرنے کے ڈر سے کانگریس پارٹی نے یہ کارروائی کی ہے۔

اس سے قبل کانگریس کے سینیئر رہنما اور پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ہریش راؤت نے بطور احتجاجاً اپنا استعفیٰ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو بھیجا تھا۔

ریاست میں کانگریس پارٹی کے ترجمان سریندر اگروال نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’ہرک سنگھ راؤت سمیت سترہ دیگر ارکان اسمبلی ہریش راؤت کے ساتھ ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ہم نئی پارٹی بنانے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔‘

Image caption مرکزی وزیر ہریش راوت نے پارٹی کے فیصلے پر ناراضگي ظاہر کی ہے

انہوں نے الزام لگایا کہ ’وجے بہوگنا کو پیسے لے کر وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ کانگریس کارکنان کے جذبات اور ان کے وقار کے ساتھ کھلواڑ ہے‘۔

حالیہ اسبملی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو بتیس سیٹیں ملی ہیں جبکہ بی جے پی کو اکتیس ملی ہیں۔ ستر رکنی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے چھتیس ارکان کی ضرورت ہے اور کافی کوششوں کے بعد بعض آزاد ارکان کی حمایت سے کانگریس نے حکومت بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

لیکن ریاست میں نئے وزير اعلیٰ کے لیے پارٹی نے علاقائی رہنما کے بجائے رکن پارلیمان وجے بہوگنا کو منتخب کیا۔ جبکہ اسمبلی انتخابات میں زبردست محنت کرنے والے رہنما ہریش راؤت اس کے اہم دعویدار تھے۔

وجے بہوگنا کے انتخاب کے بعد ہی ہریش راؤت نے مرکزی وزارتوں سے استعفیٰ پیش کیا۔ انہوں نے سونیا گاندھی کو لکھے ایک خط میں تحریر کیا تھا کہ اگر وہ وزیراعلیٰ کے لائق نہیں ہیں تو پھر انہیں مرکزی وزارت میں بھی رہنے کا کوئي حق نہیں ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہریش راؤت کے ساتھ کانگریس پارٹی کے اٹھارہ اراکین ہیں اور بی جے پی ان کی حمایت کر سکتی ہے۔

لیکن کانگریس کا کہنا ہے کہ وہ حالات کو جلد ہی سنبھال لے گی اور یہ وقتی مسئلہ ہے۔

اسی بارے میں