دلی، سری لنکا کے سفارتکار کی معذرت

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption بھارتی تمل سری لنکا کے تملوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے رہے ہیں

بھارتی دارالحکومت دلی میں سری لنکا کے سفیر پرساد کریاواسم نے کہا ہے کہ ان کے بیان سے اگر کسی بھی رکن پارلیمان کو تکلیف پہنچی ہو تو وہ اس کے لیے معافی کے طلب گار ہیں۔

انہیں بھارتی وزارت خارجہ نے بعض ارکان پارلیمان کے متعلق متنازعہ بیانات دینے پر وضاحت کے لیے طلب کیا تھا۔

بھارتی حکام سے ملنے کے بعد مسٹر پرساد نے میڈیا سے بات چيت میں کہا کہ ریاست تمل ناڈو کے بعض ارکان پارلیمان ان کے دوست ہیں اور ان کا مقصد کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا۔

مسٹر پرساد کے حوالے سے میڈیا میں اس طرح کی خبریں شائع ہورہی تھیں کہ ریاست تمل ناڈو سے آنے والے بعض ارکان پارلیمان کے ’ایل ٹی ٹی سے تعلقات رہے ہیں جس کی تفتیش ہونی چاہیے۔‘

بھارتی حکومت نے اس بیان پر تشویش ظاہر کی تھی اور اسی لیے انہیں طلب کیا گيا۔ بھارتی وزارت خارجہ میں وردھن شنگھلا سے ملاقات کے بعد مسٹر پرساد نے اپنے موقف کو واضح کیا ہے۔

انہوں نے کہا ان کے بیان کا مقصد وہ نہیں تھا جو سمجھا گيا۔’اگر میری وجہ سے کوئی تشویش پیدا ہوئی یا پھر ذہنی کوفت ہوئي تو میں تمل ناڈو کے اراکین پارلیمان سے معذرت خواہ ہوں۔ میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ایل ٹی ٹی کے لیے باہر سے، علاقے کے اور کہیں بھی لابی کرنے والے جو لوگ مہم چلا رہے ہیں اس سے ہماری مصالحتی عمل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘

واضح رہے کہ ایل ٹی ٹی ای کے خلاف جنگ میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی مذمت کے لیے اقوام متحدہ میں ایک سخت قرار داد پیش ہونی والی ہے۔

تمل ناڈو کے ارکان پارلیمان چاہتے ہیں کہ بھارتی حکومت اس قرارداد کی حمایت کرے لیکن حکومت اس سے بچنا چاہتی ہے۔

اسی پر پارلیمان میں کئی بار ہنگامہ ہوا ہے اور اسی مسئلے پر بات کرتے ہوئے سری لنکا کے سفیر نے مبینہ طور پر ایک بیان میں کہا تھا کہ تمل ناڈو کے بعض سیاسی رہنماؤں کے ایل ٹی ٹی ای کے ساتھ روابط رہے ہیں اور اس کی تفتیش ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں