ممبئی حملے: گواہوں کے بیانات قلمبند

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملوں نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا۔

ممبئی میں سنہ دو ہزار آّٹھ کے حملوں کے سلسلے میں بھارت میں موجود پاکستانی عدالتی کمیشن نے کیس کے تفتیشی افسر اور دو سرکاری ڈاکٹروں سمیت چار گواہوں کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔

ممبئی سے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے اطلاع دی کہ آٹھ رکنی عدالتی کمیشن نے سنیچر کو تفتیشی افسر کے علاوہ ان دو ڈاکٹروں کے بیان بھی ریکارڈ کیے جنہوں نے حملے میں مارے جانے والےکچھ لوگوں اور آٹھ حملہ آوروں کی لاشوں کے پوسٹ مارٹم کیے تھے۔

اس سے پہلے جمعے کے روز کمیشن نے مجسٹریٹ آر وی ساونت واگھولے کا بیان ریکارڈ کیا تھا جن کے سامنے زندہ بچ جانے والے واحد حملہ آور اجمل قصاب نے گرفتاری کے بعد اقبال جرم کیا تھا۔ اجمل قصاب نے بعد میں اپنا بیان یہ کہتے ہوئے واپس لے لیا تھا کہ انہیں اقبال جرم کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

ساونت واگھولے نے کمیشن کو بتایا کہ اپنے اقبالیہ بیان میں اجمل قصاب نے کہا تھا کہ انہیں لشکر طیبہ نے آٹھ دیگر افراد کے ہمراہ ممبئی پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

کمیشن کی کارروائی چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ایس ایس شنڈے کی عدالت میں بند کمرے میں ہوئی اور مہارشٹر ریاست کے سرکاری وکیل اجول نیکم بھی اس دوران موجود تھے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کیا کمیشن میں شامل وکلا کو جرح کی اجازت حاصل ہے یا نہیں جس کا وہ مطالبہ کر رہے تھے۔

پی ٹی آئی کے مطابق کیس کے تفتیشی افسر رمیش مہالے نے کمیشن کو بتایا کہ اجمل قصاب کو کس طرح گرفتار کیا گیا۔ مہالے نے کمیشن کو یہ بھی بتایا کہ اجمل قصاب کی فائرنگ میں کس طرح لوگ ہلاک ہوئے۔

اجمل قصاب کو اس کیس میں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ممبئی ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کے فیصلے کی تصدیق بھی کردی ہے لیکن ہائی کورٹ کے فیصلے کو اجمل قصاب نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جہاں سماعت ابھی جاری ہے۔

کمیشن نے ابھی صحافیوں سے بات نہیں کی ہے۔ جو بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں وہ ممبئی پر حملوں کےسلسلے میں پاکستان میں ذکی الرحمان لکھوی اور دیگر ملزمان پر چلائے جانے والے مقدمات میں استعمال کیے جائیں گے۔

ممبئی سے ملنے والی اخباری اطلاعات کے مطابق جمعہ کو سرکاری وکیل اجول نکم نے ملزمان کے وکلا کو جرح کی اجازت دینے کی مخالفت کی اور ان کے موقف سے جج نے اتفاق کیا۔ اجول نکم کا کہنا تھا کہ عدالتی کمیشن کے سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ چاروں گواہوں کے بیان بغیر جرح ریکارڈ کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں