’عمران خان فوج اور ملاؤں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں‘

سلمان رشدی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سلمان رشدی اس سے پہلے بھی کئی بار بھارت آچکے ہیں

متنازعہ برطانوی مصنف سلمان رشدی نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان فوج اور ملاؤں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔

دارلحکومت دلی میں منعقد ’انڈیا ٹوڈے کونکلیو‘ میں عمران خان کو نشانہ بناتے ہوئے سلمان رشدی نے کہا کہ لیبیا کے مرحوم لیڈر کرنل قذافی اور عمران خان کی شکلیں ملتی ہیں اور اگر مستقبل میں کوئی لیبیا کے سابق لیڈر پر فلم بناتا ہے تو عمران خان قذافی کے رول کے لیے سب سے صحیح ہوں گے۔

رشدی نے کہا ’ہاں، لیکن فلم میں انہیں اداکاری کرنی ہوگی۔‘

عمران خان نے انڈیا ٹوڈے کے اس پروگرام میں شامل ہونے سے یہ کہتے ہوئے اپنا نام واپس لے لیا تھا کہ سلمان رشدی نے اپنی کتاب ’سیٹانک ورسز‘ سے مسلمانوں کے جزبات کو بے حد ٹھیس پہنچائی ہے اور وہ اس پروگرام میں شامل نہیں ہوسکتے جس میں رشدی بھی موجود ہوں۔

اتر پردیش کے وزیراعلی اکھلیش یادو نے بھی اس پروگرام میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ حالانکہ اکھلیش یادو نے اس کی وجہ سرکاری مصروفیات بتائی تھی لیکن ایسا سمجھا جاتا ہے کہ ان کے پروگرام میں شامل نہ ہونے کی وجہ سلمان رشدی ہی تھے۔

اترپردیش میں حال ہی میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو مسلمانوں کا بھاری حمایت حاصل ہوئی اور پارٹی شاید ووٹروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی ہے۔

حالانکہ اپنی تقریر اور اس کے بعد ہونے والے سوال جواب میں سلمان رشدی نے اکھیلیش یادو کے بارے میں کچھ نہیں کیا لیکن عمران خان پر تنقید کی اور مذاق بھی بنایا۔

سلمان رشدی نے عمران خان کے لندن میں گزارے طالب علمی کے دور کے بارے میں لوگوں کو یاد دلایا جب سابق کرکٹر کو ’پلےبوائے‘ کہا جاتا تھا اور لوگ انہیں مبینہ طور پر ’ام دا ڈم‘ یعنی بےوقوف عمران بلاتے تھے۔

سلمان رشدی کی کئی کتابیں متنازعہ رہی ہیں اور انکے ناول سیٹانک ورسز پر بھارت سمیت کئی ممالک میں پابندی عائد ہے۔

رشدی نے دعوی کیا ہے کہ مسلمانوں کو جن باتوں سے صحیح معنی میں لشکر طیبہ اور اوسامہ بن لادن جیسے لوگوں کو پناہ دینے سے ٹھیس پہنچی ہے۔

سلمان رشدی بھارت نژاد برطانوی شہری ہیں اور کچھ عرصے سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کی ایک کتاب ’سیٹانک ورسز‘ کے پس منظر میں ایران کے مرحوم مذہبی رہنماء آیت اللہ خمینی نے ان کے خلاف 1989 میں موت کا فتویٰ دیا تھا چنانچہ دارالعلوم دیوبند بھی اس فتوے کا حامی رہا ہے۔

واضح رہے اس قبل جنوری میں بھارت کے شہر جے پور میں سالانہ ادبی میلے میں عالمی سلمان رشدی کی شرکت کا پروگرام بظاہر حکومت کے دباؤ کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا۔

سلمان رشدی کی آمد کے خلاف بعض مذہبی مسلم تنطیمیں احتجاج کر رہی تھیں اور ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت سلمان رشدی کو بھارت نہ آنے دے۔

اسی بارے میں