’سکولوں میں مسلم بچوں کو داخلے نہیں دیے گئے‘

Image caption سکولی بچوں میں پیٹ کے درد کی شکایت رہتی ہے

بھارت کے دارالحکومت دلی کے سکولوں میں اس برس نرسری درجے میں ہوئے داخلوں کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان بچوں کو بہت ہی کم تعداد میں داخلہ دیا گيا ہے۔

دلی کے جن تقریباً سو سکولوں نے اپنی ویب سائٹس پر داخلوں کی تفصیل شائع کی ہیں۔ ان سکولوں میں سے بیس نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے ایک بھی مسلم بچے کو داخل نہیں کیا۔

اس میں سے سترہ سکولوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف ایک مسلم بچے کو داخلہ دیا ہے۔

ان اعداد و شمار سے حتمی طور پر تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سکولوں میں مسلم بچوں کے داخلے سے متعلق کس حد تک امتیازی سلوک برتا جاتا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ انہیں تعلیمی سہولیات پوری طرح میسر نہیں ہیں۔

ایک سماجی کارکن عبدالخالق نے اپنے سروے کے ذریعے یہ اعداد و شمار جمع کیے ہیں۔

انہوں نے اس سلسلے میں دلی کی وزیراعلیٰ شیلا دکشت کو ایک خط لکھ کر یہ الزام لگایا ہے کہ دلی میں دانستہ طور پر مسلم بچوں کو اچھی تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے۔

’دارالحکومت میں بد قسمتی سے اچھی تعلیم نجی سکولوں میں ہے جہاں سے تعلیم یافتہ بچے دیگر کے مقابلے ملازمت حاصل کرنے یا پھر اچھے کالجوں میں داخلہ لینے میں کامیاب رہتے ہیں۔‘

انہوں نے لکھا ہے کہ اس صورتحال سے مسلمانوں میں کافی بے چینی ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ آبادی کی مناسبت سے مسلمان پندرہ فیصد ہیں جبکہ انہیں صرف صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے کم ہی داخلے دیے گئے ہیں۔

انہوں نے ریاستی حکومت کو داخلے کے سلسلے میں بعض تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ داخلے سے متعلق الگ الگ قواعد و ضوابط بھی اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت سے سکولوں نے دانستہ طور پر اپنے داخلوں کی فہرست ویب سائٹ پر جاری نہیں کی ہے جبکہ اصولی طور پر یہ ضروری ہے۔

اسی بارے میں