اڑسٹھ برس بعد طلائی تمغہ

ڈی این ملہوترا
Image caption ڈی این ملہوترا نے انیس سو چوالیس میں لاہور کی پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا تھا

دینا ناتھ ملہوترا نے تقسیم ہند سے پہلے انیس سو چوالیس میں لاہور کی پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کے امتحان میں اول پوزیشن جس کے لیے انہیں طلائی تمغہ دیا جانا تھا۔

تقریباً اڑسٹھ سال کے انتظار کے بعد جمعہ کی شام یوم پاکستان کی تقریبات کے موقع پر انہیں دلی میں پاکستان کے سفیر اس تمغے سے نوازیں گے۔ دینا ناتھ ملہوتری کی عمر اب نوے سال سے زیادہ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’ لبمے انتظار کے بعد میڈل ملنا بہت اچھا لگ رہا ہے۔ میں نے انیس سو چوالیس میں پنجاب یونیورسٹی، لاہور، سے ایم اے پاس کیا تھا، پولیٹکل سائنس میں، امتحان میں میری پہلی پوزیشن آئی تھی، اس لیے مجھے گولڈ میڈل ملنا تھا۔'

اس وقت یہ تمغے انگلستان سے بن کر آیا کرتے تھے، اور جب تک میڈل آیا ملک تقسیم ہوچکا تھا اور وہ بھارت آچکے تھے۔ اس کے بعد وہ اپنی زندگی دوبارہ بنانے میں لگ گئے اور ان کا میڈل پنجاب یونیورسٹی کے پاس امانتاً رکھا رہا۔

دینا ناتھ کہتے ہیں کہ اس وقت گورنر تقسیم اسناد کی تقریب میں یہ میڈل دیا کرتےتھے، پہلے علامتی طور پر ایک ’ڈمی' دیا جاتا تھا اور بعد میں اصل میڈل ملتا تھا۔

’پنجاب یونیورسٹی اس وقت بہت مشہور تھی، کھچا کھچ بھرے ہوئے ہال میں مجھے میڈل دیا گیا، اس کے بعد انیس سو سینتالیس آگیا اور اصل میڈل کی بات آئی گئی ہوگئی'

بھارت میں دینا ناتھ نے اپنا پبلشنگ کا کام شروع کیا جو بہت کامیاب ثابت ہوا۔ پبلشرز کے ایک گروپ کے ساتھ وہ انسانی وسائل کے وفاقی وزیر سے ملنے گئے تو ایک اعلی سرکاری اہلکار سے بات چیت کے دوران انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں زمانہ طالب علمی کا ذکر کیا، اور ظاہر ہے کہ اپنے گولڈ میڈل کا بھی جسے حاصل کرنے کی خواہش ہمیشہ سے ان کے دل میں تھی۔

دینا ناتھ ملہوترا کے دوست شکتی سنگھ بھی اس ملاقات میں شریک تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ اتفاق سے پنجاب یونیورسٹی، چنڈی گڑھ اور پنجاب یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ سرکاری افسر نے اس معاملے میں دلچسپی دکھائی تو دونوں وائس چانسلروں نے کہا کہ وہ تمام معلومات حاصل کرکے مناسب کارروائی کریں گے۔'

لیکن دینا ناتھ ملہوترا کا انتظار ابھی ختم نہیں ہونا تھا۔ تمام تیاریاں پوری کرنے کے بعد انہیں دو ہزار آٹھ میں لاہور مدعو کیا گیا لیکن اسی دوران شدت پسندوں نے ممبئی پر حملہ کر دیا جس کی وجہ سے وہ پاکستان نہیں جاسکے۔

کچھ عرصہ پہلے بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا اور یہ طے پایا کہ میڈل دلی میں پاکستان کے سفارت خانے میں ہی دے دیا جائے تو اچھا رہے گا۔

شکتی سنگھ کہتے ہیں کہ ’تاریخ میں شاید ایسا پہلی مرتبہ ہوگا کہ اڑسٹھ سال کے انتظار کے بعد کسی کو اپنی سابقہ یونیورسٹی کی جانب سے میڈل ملےگا وہ بھی دوسرے ملک میں رہتے ہوئے۔'

دینا ناتھ تقسیم کے بعد کبھی پاکستان واپس نہیں گئے۔ ’ میں نے یونیورسٹی سے رابطہ بھی نہیں کیا کیونکہ میں وہاں کسی کو جانتا نہیں تھا۔'

لیکن کیا لاہور جانے کی خواہش ہوتی ہے؟ جواب میں وہ کہتے ہیں کہ’ دل تو کرتا ہے، ایک دو مرتبہ پروگرام بھی بنا لیکن جانا نہیں ہو پایا، لیکن وہاں کی زندگی بہت یاد آتی ہے، لوگوں میں بہت محبت تھی، جب بھی ملتے تو ایک دوسرے کو گلے لگاتے تھے۔'

لیکن ان کا خیال ہے کہ ملک کی تقسیم کے بارے میں جتنا لکھا جانا چاہیے تھا، اتنا لکھا نہیں گیا۔’میری خواہش ہے کہ اس بارے میں زیادہ تفصیل سے لکھا جائے تاکہ لوگ اس سانحے سے سبق حاصل کرسکیں'.

اسی بارے میں