رکن اسمبلی ماؤ باغیوں کے ہاتھوں اغواء

تصویر کے کاپی رائٹ Odisha Assembly
Image caption اغوا کیے جانے والے رکن اسمبلی جھینا ہیکاکا کا تعلق کوراپوٹ ضلع سے ہے اور وہ خود ایک قبائلی رہنما ہیں۔

بھارت کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں پولیس کا الزام ہے کہ ماؤ نواز باغیوں نے مبینہ طور پر حکمراں بیجو جنتا دل کے ایک رکن اسمبلی کو اغوا کر لیا ہے۔

ماؤ نوازوں نے پہلے ہی سے دو اطالوی شہریوں کو اغوا کر رکھا ہے جن کی رہائی کے لیے حکومت اور باغیوں کے درمیان بات چیت جاری ہے لیکن کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

اغوا کیے جانے والے رکن اسمبلی جھینا ہیکاکا کی عمر سینتیس سال بتائی گئی ہے اور ان کا تعلق کوراپوٹ ضلع سے ہے۔ وہ خود ایک قبائلی رہنما ہیں۔

کوراپوٹ کے ضلع سپرنٹنڈنٹ اویناش کمار کے مطابق مسٹر ہیکاکا کو دارالحکومت بھبنیشور سے تقریباً چھ سو کلومیٹر دور تایاپوٹ کے گھنے جنگلات سے اغوا کیا گیا اور اس کارروائی میں تقریباً سو باغیوں نے حصہ لیا لیکن انہوں نے مسٹر ہیکاکا کے ذاتی محافظ اور ڈرائیور کو جانے دیا۔

یہ واقعہ رات دیر گئے پیش آیا اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعلی نوین پٹنائک نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ سنیچر کو ماؤ نواز باغیوں نے پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

پولیس کے مطابق باغی کچھ پرچے چھوڑ کر گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اطالوی شہریوں کو اسی صورت میں رہا کیا جائے گا جب ان کے سبھی مطالبات تسلیم کر لیے جائیں گے۔

بتایا جاتا ہے کہ مسٹر ہیکاکا کےاغوا سے اب اطالوی شہریوں کو رہا کرانے کا کام اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ دونوں شہری، باسوسکو پاؤلو اور کلوڈیو کولنجیلو گیارہ دن سے ماؤ نواز ماغیوں کے قبضے میں ہیں۔ اگرچہ باغیوں کے مطالبات کی فہرست لمبی ہے لیکن وہ بنیادی طور پر اپنے کچھ ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ملک کے ایک بڑے حصے میں ماؤنواز باغی سرگرم ہے اور وزیر اعظم من موہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کئی مرتبہ انہیں ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا داخلی خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

اسی بارے میں